ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 60

قَالُوۡا بَلۡ اَنۡتُمۡ ۟ لَا مَرۡحَبًۢا بِکُمۡ ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡہُ لَنَا ۚ فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۶۰﴾
وہ کہیں گے بلکہ تم ہو ،تمھارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تم ہی اسے ہمارے آگے لائے ہو۔ سو یہ برا ٹھکانا ہے۔ En
کہیں گے بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو۔ تم ہی تو یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے
En
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) {قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ …:} بعد میں داخل ہونے والے ان سے کہیں گے، بلکہ تمھارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تمھی نے ہمیں اس کام کی دعوت دی جس نے ہمیں اس انجام تک پہنچایا، سو یہ ہمارا اور تمھارا بہت برا ٹھکانا ہے۔ یہ بات وہ محض دل ٹھنڈا کرنے کے لیے کہیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 یعنی تم ہی کفر و ضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے پیروی کرنے والوں سے کہیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ (آنے والے پہلوں کو) کہیں گے۔ نہیں بلکہ تمہارے لئے ہی خوش آمدید نہ ہو۔ تم ہی ہمارے لیے اس (عذاب) کے پیش رو بنے جو اتنی بری قرار گاہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔