ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 6

وَ انۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَ اصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۖ﴿ۚ۶﴾
اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقیناً یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ En
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے
En
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ …: الْمَلَاُ } کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۶) یعنی کفار کے سرکردہ اور بڑے لوگ توحید کی دعوت سن کر آپ کی مجلس سے یہ کہہ کر چل کھڑے ہوئے کہ اپنے دین اور طریقے پر چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، جیسا کہ قوم نوح نے کہا تھا: «لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا وَّ لَا يَغُوْثَ وَ يَعُوْقَ وَ نَسْرًا» ‏‏‏‏ [نوح: ۲۳] تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی وَدّ کو چھوڑنا اور نہ سُواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔
➋ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو باطل اور شرک پر ڈٹے رہنے کی اتنی تاکید کر رہے ہیں، اہلِ حق کو تو اس سے زیادہ حق پر قائم رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو قائم رہنے کی تاکید کرنی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ الْعَصْرِ (1) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ (2) اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [العصر: ۱ تا ۳] زمانے کی قسم! کہ بے شک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
➌ { اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ:} یعنی اس نے ہمارے سامنے جو کلمہ توحید پیش کیا ہے یہ ایسی چیز ہے جس کے اعلان کا اور اسے ہر حال میں نافذ کرنے کا ارادہ کیا جا چکا ہے، اب اسے اس سے باز رکھنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی پوجا کرتے رہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کان مت دھرو! 6۔ 2 یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت منوانا چاہتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور ان کے سردار چل کھڑے ہوئے (اور کہنے لگے کہ) ”چلو اور اپنے خداؤں کی عبادت [5] پر ڈٹے رہو۔ یہ بات تو کسی اور ہی ارادہ [6] سے کہی جا رہی ہے“
[5] سمجھوتہ کے لئے ایک 25 رکنی وفد کا ابو طالب کے پاس آنا:۔
ان آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ 10 نبوی میں ابو طالب بیمار پڑ گئے (اسی مرض سے ان کی وفات ہوئی اور اس سال ام المومنین سیدہ خدیجہؓ کا انتقال ہوا تھا لہٰذا اس سال کو عام الحزن کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں بھاری صدمے پہنچے تھے) اس وقت ابو طالب کی عمر 80 برس کی ہو چکی تھی نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں انہوں نے جو مصائب، اور شعب ابی طالب میں جو فاقے جھیلے تھے انہوں نے ابو طالب کو بہت کمزور کر دیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ سرداران قریش کو خیال آیا کہ اگر ابو طالب کے مرنے کے بعد ہم نے اس کے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادتی کی تو سارا عرب یہ طعنہ دے گا کہ چچا کے جیتے جی تو ان سے کچھ بن نہ پڑا اب اس کے مرنے کے بعد اسے دبانے لگے ہیں۔ لہٰذا ابو طالب کی زندگی میں ہی سمجھوتہ کی غرض سے سرداران قریش کا ایک 25 رکنی وفد ابو طالب کے پاس آیا اور کہا کہ ”ذرا اپنے بھتیجے کو بلاؤ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے وہ اپنے مذہب کے مطابق جیسے چاہے عبادت کرے۔ لیکن یہ لوگ ہمارے مذہب میں مداخلت نہ کریں۔ نہ ہمارے معبودوں اور بزرگوں کو برا بھلا کہیں۔ وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑ دیں“ چنانچہ ابو طالب نے آپ کو بلایا۔ اس وقت ابو طالب کے قریب ایک آدمی کی جگہ خالی تھی۔ ابو جہل فوراً اٹھ کر وہاں جا بیٹھا تاکہ آپ اس کے قریب نہ بیٹھ سکیں۔ خیر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرے ہٹ کر بیٹھ گئے تو ابو طالب نے کہا: ”یہ تمہاری قوم کے معزز لوگ ہیں اور اس قسم کی بات پر سمجھوتہ اور عہد و پیمان کرنے آئے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے؟“ آپ کا جواب ایک اللہ کی عبادت کرو عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”کیا میں انہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر وہ اسے مان لیں تو سارا عرب ان کے تابع فرمان ہو جائے اور عجم پر ان کی بادشاہت قائم ہو جائے اور وہ انہیں جزیہ ادا کریں؟“ یہ سن کر ابو جہل کہنے لگا: ”تمہارے باپ کی قسم! ایسی ایک بات کیا، دس باتیں بھی پیش کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تم لوگ لا الٰہ الا اللّٰہ کہو اور اللہ کے سوا جن جن کو پوجتے ہو انہیں چھوڑ دو“ اس بات پر ان سب نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر کہا: ”محمد! سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا! یہ تو بڑی عجیب بات ہے“ پھر آپس میں کہنے لگے: اٹھو یہاں سے اور اپنے آباء کے دین پر ڈٹ جاؤ۔ یہ شخص تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہ ہو گا۔ اسی موقع پر اس سورۃ کی ابتدائی سات آیات نازل ہوئیں۔ [ابن هشام 1: 417 تا 419]
اسی واقعہ کو امام ترمذی نے مختصراً یوں روایت کیا ہے: ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو طالب بیمار ہوئے تو قریش اس کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس آئے اور ابو طالب کے پاس ایک ہی آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابو جہل اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بیٹھنے سے روک دے۔ پھر ان لوگوں نے ابو طالب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شکایت کی۔ ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: ”بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ایک کلمہ: اگر وہ اسے قبول کر لیں تو عرب کے حاکم بن جائیں اور عجم سے جزیہ لیں“ ابو طالب نے کہا: ”صرف ایک کلمہ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں صرف ایک کلمہ“ پھر فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ یہ تسلیم کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“ قریشی کہنے لگے: ”کیا ہم صرف ایک ہی خدا کی عبادت کریں (باقی سب چھوڑ دیں) یہ تو بڑی عجیب بات ہے ہم نے زمانہ قریب کے دین میں تو یہ بات کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ تو محض من گھڑت بات ہے“ انہیں لوگوں کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ [ترمذي۔ كتاب التفسير]
عرب میں قبیلے قبیلے کا جدا جدا بت تھا۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر قبیلے کا بت اس قبیلے کے لوگوں کی مشکلات کو دور کرتا اور ان کی حاجات پوری کرتا ہے۔ اور بڑا خدا یا رب العالمین صرف ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ لہٰذا انہیں یہ بات دور از قیاس بلکہ محال معلوم ہوتی تھی کہ ایک ہی پروردگار تمام جہان کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرے۔
[6] قریش کا خیال کہ یہ نبی اقتدار چاہتا ہے:۔
یعنی اس دعوت میں ضرور کچھ کالا ہے اس نبی کی اصل غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ اکیلے خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا تابع اور محکوم بنا لے اور اپنی حکومت قائم کرے۔ ہم بھلا اس کی یہ بات چلنے دیں گے؟ ہم تو یہ بات کسی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے۔ بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس عزم و استقلال کے ساتھ اپنی دعوت پیش کر رہے ہیں معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں اور ایسا انقلاب آبھی سکتا ہے لہٰذا جہاں تک ہو سکے اپنے آبائی دین کی حفاظت پر ڈٹ جاؤ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔