(آیت 48،47) {وَاِنَّهُمْعِنْدَنَالَمِنَالْمُصْطَفَيْنَالْاَخْيَارِ …: ”الْمُصْطَفَيْنَ“”مُصْطَفٰي“} کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں {”مُصْتَفٰي“} ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ”چُنے ہوئے۔“ {”الْاَخْيَارِ“”خَيْرٌ“} کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں {”أَخْيَرُ“} ہے، اس لیے اس کی جمع {”الْاَخْيَارِ“} آئی ہے ”سب سے بہتر لوگ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ ہمارے ہاں وہ یقیناً نیک اور برگزیدہ لوگوں میں سے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔