ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 39

ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِکۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۹﴾
یہ ہماری عطا ہے، سو احسان کر، یا روک رکھ، کسی حساب کے بغیر۔ En
(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے
En
یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) {هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ …:} یعنی ہم نے تمھاری دعا کے مطابق تمھیں عظیم بادشاہی عطا کر دی، اب تم جسے چاہو دو جسے چاہو نہ دو اور جتنا چاہو دو، تم سے کوئی حساب بھی نہیں لیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ (ہم نے ان سے کہا) یہ ہماری بخشش ہے۔ اب کسی پر احسان کرو یا [45] اپنے پاس رکھو، کوئی حساب نہیں۔
[45] جنوں پر سیدنا سلیمان کی حکمرانی:۔
یعنی جنوں کے معاملہ میں آپ کو مکمل اختیارات حاصل تھے کسی سے کام لیں یا نہ لیں۔ کسی کو معاوضہ دیں یا نہ دیں۔ یہ معاوضہ تھوڑا دیں یا زیادہ دیں۔ یہ سب کچھ آپ کی صوابدید پر منحصر تھا۔ اور اگر اس آیت کو عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے آپ کو بے پناہ مال و دولت عطا کی تھی۔ اور کہہ دیا تھا کہ اسے جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے اس کا کچھ مؤاخذہ نہ ہو گا۔ اب ایک طرف اللہ تعالیٰ کے انعامات کا یہ حال ہے کہ بے حساب مال و دولت دے کر فرمایا کہ جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ دوسری طرف سیدنا سلیمانؑ کا یہ حال تھا کہ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بیت المال سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے والد بزرگوار کی طرح اپنی کمائی سے کھاتے تھے۔ سیدنا داؤدؑ تو زرہیں بنایا کرتے تھے اور آپ تانبے کی مصنوعات تیار کرتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔