ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 29

کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے، بہت بابرکت ہے، تاکہ وہ اس کی آیات میں غوروفکر کریں اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔ En
(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
En
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ:} یعنی جب نیک و بد ایک جیسے نہیں ہو سکتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی راہ نمائی ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، یہ بہت برکت والی ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ خیر کی باتیں جمع ہیں۔
➋ {لِيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ …: لِيَدَّبَّرُوْۤا } اصل میں {لِيَتَدَبَّرُوْا} (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [الرعد: ۱۹] نصیحت تو صرف عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔ آیات میں تدبّر کا فائدہ تب ہے جب آدمی ان پر عمل کرے۔ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے حسن بصری کا قول نقل فرمایا ہے: اللہ کی قسم! قرآن کا تدبّر صرف یہ نہیں کہ اس کے الفاظ حفظ کر لیے جائیں اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کر دیا جائے، یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، حالانکہ قرآن کا کوئی اثر نہ ان کے اخلاق و عادات میں نظر آتا ہے نہ ان کے اعمال اور کاموں میں۔ اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا۔ (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ جو کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے بڑی برکت والی [37] ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اہل عقل و دانش اس سے سبق حاصل کریں۔
[37] برکت والی اس لحاظ سے ہے کہ وہ انسان کو اس کے انجام سے پوری طرح خبردار کرتی ہے اور دلائل سے ہر بات سمجھاتی ہے پھر اخروی فلاح کے طریقے بھی بتاتی ہے۔ اور انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کی پیروی میں انسان کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی احتمال نہیں۔ اور اگر صاحب عقل و دانش اس میں کچھ غور و فکر کریں تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں اور اس کتاب کی خیر و برکت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّیَدَّبَّ٘رُوْۤا اٰیٰتِهٖ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِیَتَذَكَّـرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كتابٌ أنزلناه إليك مبارَكٌ}: فيه خيرٌ كثيرٌ وعلمٌ غزيرٌ، فيه كلُّ هدى من ضلالة وشفاء من داء ونور يُسْتَضاء به في الظُّلمات، وكلُّ حكم يحتاج إليه المكلَّفون، وفيه من الأدلَّة القطعيَّة على كلِّ مطلوب ما كان به أجَلَّ كتاب طَرَقَ العالَمَ منذ أنشأه الله، {لِيَدَّبَّروا آياتِهِ}؛ أي: هذه الحكمة من إنزاله؛ ليتدبَّر الناسُ آياتِهِ، فيستخرِجوا علمَها، ويتأمَّلوا أسرارها وحِكَمَها؛ فإنَّه بالتدبُّر فيه والتأمُّل لمعانيه وإعادة الفكر فيها مرةً بعد مرةٍ تُدْرَكُ بركتُهُ وخيرُهُ، وهذا يدلُّ على الحثِّ على تدبُّرِ القرآن، وأنَّه من أفضل الأعمال، وأنَّ القراءة المشتملة على التدبُّرِ أفضل من سرعةِ التلاوةِ التي لا يحصُلُ بها هذا المقصودُ، {ولِيَتَذَكَّرَ أولو الألبابِ}؛ أي: أولو العقول الصحيحة، يتذكَّرون بتدبُّرهم لها كلَّ علم ومطلوب. فدَّل هذا على أنه بحسب لُبِّ الإنسان وعقله يحصُلُ له التذكُّر والانتفاعُ بهذا الكتاب.