تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ …: ” لِيَدَّبَّرُوْۤا “} اصل میں {”لِيَتَدَبَّرُوْا“} (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [الرعد: ۱۹] ”نصیحت تو صرف عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔“ آیات میں تدبّر کا فائدہ تب ہے جب آدمی ان پر عمل کرے۔ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے حسن بصری کا قول نقل فرمایا ہے: ”اللہ کی قسم! قرآن کا تدبّر صرف یہ نہیں کہ اس کے الفاظ حفظ کر لیے جائیں اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کر دیا جائے، یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، حالانکہ قرآن کا کوئی اثر نہ ان کے اخلاق و عادات میں نظر آتا ہے نہ ان کے اعمال اور کاموں میں۔“ اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{كتابٌ أنزلناه إليك مبارَكٌ}: فيه خيرٌ كثيرٌ وعلمٌ غزيرٌ، فيه كلُّ هدى من ضلالة وشفاء من داء ونور يُسْتَضاء به في الظُّلمات، وكلُّ حكم يحتاج إليه المكلَّفون، وفيه من الأدلَّة القطعيَّة على كلِّ مطلوب ما كان به أجَلَّ كتاب طَرَقَ العالَمَ منذ أنشأه الله، {لِيَدَّبَّروا آياتِهِ}؛ أي: هذه الحكمة من إنزاله؛ ليتدبَّر الناسُ آياتِهِ، فيستخرِجوا علمَها، ويتأمَّلوا أسرارها وحِكَمَها؛ فإنَّه بالتدبُّر فيه والتأمُّل لمعانيه وإعادة الفكر فيها مرةً بعد مرةٍ تُدْرَكُ بركتُهُ وخيرُهُ، وهذا يدلُّ على الحثِّ على تدبُّرِ القرآن، وأنَّه من أفضل الأعمال، وأنَّ القراءة المشتملة على التدبُّرِ أفضل من سرعةِ التلاوةِ التي لا يحصُلُ بها هذا المقصودُ، {ولِيَتَذَكَّرَ أولو الألبابِ}؛ أي: أولو العقول الصحيحة، يتذكَّرون بتدبُّرهم لها كلَّ علم ومطلوب. فدَّل هذا على أنه بحسب لُبِّ الإنسان وعقله يحصُلُ له التذكُّر والانتفاعُ بهذا الكتاب.