(آیت 29) ➊ {كِتٰبٌاَنْزَلْنٰهُاِلَيْكَمُبٰرَكٌ:} یعنی جب نیک و بد ایک جیسے نہیں ہو سکتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی راہ نمائی ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، یہ بہت برکت والی ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ خیر کی باتیں جمع ہیں۔ ➋ {لِيَدَّبَّرُوْۤااٰيٰتِهٖ …: ”لِيَدَّبَّرُوْۤا“} اصل میں {”لِيَتَدَبَّرُوْا“} (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَايَتَذَكَّرُاُولُواالْاَلْبَابِ»[الرعد: ۱۹]”نصیحت تو صرف عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔“ آیات میں تدبّر کا فائدہ تب ہے جب آدمی ان پر عمل کرے۔ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے حسن بصری کا قول نقل فرمایا ہے: ”اللہ کی قسم! قرآن کا تدبّر صرف یہ نہیں کہ اس کے الفاظ حفظ کر لیے جائیں اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کر دیا جائے، یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، حالانکہ قرآن کا کوئی اثر نہ ان کے اخلاق و عادات میں نظر آتا ہے نہ ان کے اعمال اور کاموں میں۔“ اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ جو کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے بڑی برکت والی [37] ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اہل عقل و دانش اس سے سبق حاصل کریں۔
[37] برکت والی اس لحاظ سے ہے کہ وہ انسان کو اس کے انجام سے پوری طرح خبردار کرتی ہے اور دلائل سے ہر بات سمجھاتی ہے پھر اخروی فلاح کے طریقے بھی بتاتی ہے۔ اور انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کی پیروی میں انسان کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی احتمال نہیں۔ اور اگر صاحب عقل و دانش اس میں کچھ غور و فکر کریں تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں اور اس کتاب کی خیر و برکت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔