ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 23

اِنَّ ہٰذَاۤ اَخِیۡ ۟ لَہٗ تِسۡعٌ وَّ تِسۡعُوۡنَ نَعۡجَۃً وَّ لِیَ نَعۡجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ۟ فَقَالَ اَکۡفِلۡنِیۡہَا وَ عَزَّنِیۡ فِی الۡخِطَابِ ﴿۲۳﴾
بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے، تو اس نے کہا کہ یہ میرے سپرد کر دے اور اس نے بات کرنے میں مجھ پر بہت سختی کی۔ En
(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے
En
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 22 میں تا آیت 24 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔ 23۔ 2 یعنی ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہوجاؤں۔ 23۔ 3 دوسرا ترجمہ ہے ' اور یہ گفتگو میں بھی مجھ پر غالب آگیا ' یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی و طراری کی وجہ سے لوگوں کو قائل کرلیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور گفتگو میں بھی اس [27] نے مجھے دبا لیا ہے۔
[27] اس تمہیدی مشترکہ بیان کے بعد مدعی نے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ یہ (مدعا علیہ) میرا بھائی ہے (بھائی سے مراد یہ نہیں کہ وہ رشتے سے بھائی ہو، بلکہ دینی بھائی بھی مراد ہو سکتا ہے اور کسی کاروباری اشتراک کی بنا پر بھی) اس کے پاس ننانوے دنبیاں تو پہلے ہی موجود ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور مجھے اس سے اپنے حق کی حفاظت کے لئے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ مجھے ایسی بات کرنے ہی نہیں دیتا اور دبا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ د علیہ السلام کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ د علیہ السلام کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔
ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِیْ بے شک یہ میرا بھائی یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ اور میرے پاس ایک دنبی ہے اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمقصود من هذا أن الخصمين قد عُرِفَ أنَّ قصدَهما الحقُّ الواضحُ الصرفُ، وإذا كان ذلك؛ فسيقصُّون عليه نبأهم بالحقِّ، فلم يشمئزَّ نبيُّ الله داود من وعِظِهما له ولم يؤنِّبْهما، فقال أحدُهما: {إنَّ هذا أخي}: نصَّ على الأخوَّة في الدين أو النسب أو الصداقة؛ لاقتضائِها عدم البغي، وأن بغيَه الصادرَ منه أعظمُ من غيره، {له تسعٌ وتسعون نعجةً}؛ أي: زوجة، وذلك خير كثيرٌ يوجِبُ عليه القناعة بما آتاه الله، {ولي نعجةٌ واحدةٌ}، فطمع فيها، {فقال أكْفِلْنيها}؛ أي: دعها لي وخَلِّها في كفالتي، {وعَزَّني في الخطاب}؛ أي: غلبني في القول، فلم يزلْ بي حتى أدركها أو كادَ.