اس آیت کی تفسیر آیت 12 میں تا آیت 14 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 اَصْحَابالاَیْکۃِ کے لئے دیکھئے (وَمَآاَنْتَاِلَّابَشَرٌمِّثْلُنَاوَاِنْنَّظُنُّكَلَمِنَالْكٰذِبِيْنَ) 26۔ الشعراء:186) کا حاشیہ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ نیز ثمود، قوم لوط اور اصحاب [15] ایکہ بھی (جھٹلا چکے) یہ واقعی [16] بڑے لشکر تھے۔
[15] اصحاب الایکہ:۔
لفظی معنی ”بن والے“ ان کا علاقہ ایک سطح مرتفع پر واقع تھا۔ ان کی طرف شعیبؑ مبعوث ہوئے تھے۔ ان کا حال پہلے گزر چکا ہے۔
[16] بڑی طاقتیں اور قومیں جو تباہ ہو چکی ہیں:۔
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام میں سے چھ قوموں کے نام گنوا کر کفار مکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الواقع بڑے مضبوط جتھے تھے۔ قد و قامت میں، زور و قوت میں، مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی میں ان سے بہت آگے تھے ان کی تعداد بھی کفار مکہ سے بہت زیادہ تھی۔ مگر جب انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہوا تو انہیں ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ اب تم کس کھیت کی مولی ہو کہ میرے رسول کی تکذیب کرنے کے بعد صحیح و سلامت بچے رہو گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
گذشتہ مفرور قوموں کا انجام ٭٭
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہو چکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور اور ذر میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آ چکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہو گی کہ جس کے کان میں پڑی بے ہوش و بے جان ہو گیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔
«قِطَّ» کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذْقَالُوااللَّـهُمَّإِنكَانَهَـٰذَاهُوَالْحَقَّمِنْعِندِكَفَأَمْطِرْعَلَيْنَاحِجَارَةًمِّنَالسَّمَاءِأَوِائْتِنَابِعَذَابٍأَلِيمٍ» [8-الأنفال: 32] انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ اور اسماعیل رحمہ اللہ کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔