ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 10

اَمۡ لَہُمۡ مُّلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۟ فَلۡیَرۡتَقُوۡا فِی الۡاَسۡبَابِ ﴿۱۰﴾
یا آسمانوں کی اور زمین کی اور ان کے درمیان کی چیزوں کی بادشاہی انھی کے پاس ہے تو وہ سیڑھیوں میں اوپر چڑھ جائیں۔ En
یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر ان ہی کی حکومت ہے۔ تو چاہیئے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں) پر چڑھ جائیں
En
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: لَهُمْ } پہلے آنے سے حصر پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی یا پھر اللہ تعالیٰ کے بجائے زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک یہی ہیں کہ جسے جو چاہیں دیں، جو چاہیں نہ دیں؟ تو پھر زمین پر کیوں پھرتے ہیں، آسمان کی سیڑھیوں پر چڑھیں، زمین و آسمان کی ساری سلطنت سنبھالیں اور اللہ تعالیٰ کے بجائے خود جسے چاہیں نبوت دیں جسے چاہیں نہ دیں؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، تو پھر ایسی بے ہودہ باتیں کیوں کرتے ہیں؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کردیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ یا یہ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں (اگر یہ بات ہے تو) یہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ [12] جائیں
[12] اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین و آسمان کی چیزوں کے مالک ہو گئے ہیں جو یہ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ بند کر دیں۔ اور جسے یہ رسالت کے لئے منتخب کرنا چاہتے ہیں وحی کا رخ ادھر موڑ دیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔