(آیت 98) {فَاَرَادُوْابِهٖكَيْدًا …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۷۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
98۔ 1 یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنادیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
98۔ انہوں نے تو ابراہیم کے خلاف [53] تدبیر کی تھی۔ مگر ہم نے انہیں ہی نیچا دکھا دیا۔
[53] سیدنا ابراہیم کو آگ کے الاؤ میں پھینکنا:۔
سیدنا ابراہیمؑ کے دلائل کا جواب تو کسی کے پاس تھا نہیں۔ لہٰذا وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے اور کہنے لگے، اپنے معبودوں کے گستاخ کو ایسی قرار واقعی سزا دو جس سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ چنانچہ بالاتفاق طے ہوا کہ ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا جائے اور اس میں سیدنا ابراہیمؑ کو پھینک کر زندہ جلا دیا جائے۔ چنانچہ ان لوگوں نے حسب تجویز بہت بڑا الاؤ تیار کیا اور سیدنا ابراہیمؑ کو اس میں پھینک دیا۔ اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچنے پائے۔ چنانچہ آپ صحیح سلامت اس آگ سے باہر نکل آئے۔ اس طرح آپ تو اس بھاری آزمائش میں پوری طرح کامیاب ہو گئے اور قوم کو پہلے سے بھی زیادہ رسوا ہونا پڑا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔