(آیت 9) {دُحُوْرًاوَّلَهُمْعَذَابٌوَّاصِبٌ:”دَحَرَيَدْحَرُدَحْرًاوَدُحُوْرًا“} (ف) بھگانا، دفع کرنا۔ {”وَّاصِبٌ“”وَصَبَيَصِبُوُصُوْبًا“} (ض) دائمی ہونا۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے، کیونکہ دنیا میں بھگانے کے لیے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ان کے لئے پیہم عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔