ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 75

وَ لَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِیۡبُوۡنَ ﴿۫ۖ۷۵﴾
اور بلاشبہ یقینا نوح نے ہمیں پکارا تو یقینا ہم اچھے قبول کرنے والے ہیں۔ En
اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں
En
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 75) ➊ { وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ:} پکارنے سے مراد وہ دعا ہے جو نوح علیہ السلام نے ساڑھے نوسو سال تک صبرو استقامت کے ساتھ دعوت دینے کے بعد اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آگاہ کیا کہ اب تمھاری قوم میں سے ان کے سوا کوئی ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لا چکے۔ اس دعا کا ذکر سورۂ قمر (۱۰) اور سورۂ نوح (۲۶) میں ہے۔
➋ {فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ:} یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح {نَحْنُ} محذوف ہے، یعنی یقینا ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳۶ تا ۴۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

75۔ 1 یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کو جھٹلایا تو انہوں نے محسوس کرلیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) 54۔ القمر:10) یا اللہ میں مغلوب ہوں میری مدد فرما، چناچہ ہم نے نوح ؑ کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کردیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ اور ہمیں نوح نے پکارا [43] تو (دیکھو) ہم کیا خوب [44] دعا قبول کرنے والے ہیں
[43] نوحؑ کی بد دعا اور اس کی قبولیت:۔
سیدنا نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم سے سر کھپایا۔ ان کو دلائل سے سمجھایا اور مختلف پیرایوں میں سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ الٹا ان کا مذاق اڑاتے اور ایذائیں پہنچاتے رہے۔ اس طویل عرصہ میں معدودے چند آدمی آپ پر ایمان لائے۔ پھر جب آپ اپنی قوم سے قطعی طور پر مایوس ہو گئے کہ اب باقی لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نظر نہیں آتا اور سب میرے اور میرے ساتھیوں کے درپے آزار ہیں تو اس وقت آپؑ نے اللہ کے حضور فریاد کی کہ یا اللہ! مجھے ان لوگوں نے دبا لیا ہے اب تو ہی ان سے بدلہ لے اور مجھے ان ظالموں سے نجات دے۔
[44] یعنی ہم نے سیدنا نوحؑ کی فریاد سنی تو ان کی فریاد رسی کر دی۔ ان کی مصیبت کا ازالہ کر دیا، انہیں ظالموں سے نجات دے دی۔ کیونکہ یہ بات ہمارے ذمہ ہے کہ حق و باطل کے معرکہ میں ہم ایمانداروں کی فریاد رسی کیا کرتے ہیں۔ اور انہیں ظالموں سے بچا لیتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «‏‏‏‏فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ‌» ۱؎ [54-القمر:10]‏‏‏‏اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔
تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔
ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔
یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول، حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ وہ اس دعوت سے دور بھاگتے رہے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارتے ہوئے دعا کی: ﴿رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ دَیَّارًؔا (نوح: 71؍26) اے میرے رب! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ اور فرمایا: ﴿ رَبِّ انْ٘صُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ (المؤمنون: 23/26) اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ و زاری کو سنتے ہیں اور خوب جواب دیتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ یہ قبولیت نوح علیہ السلام کی درخواست سے مطابقت رکھتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام اور آپ کے گھر والوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی اور تمام کفار کو سیلاب میں غرق کر دیا۔ آپ کی نسل اور اولاد کو تسلسل سے باقی رکھا، چنانچہ تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے آپ کو دائمی ثنائے حسن سے سرفراز فرمایا کیونکہ آپ نے نہایت احسن طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور مخلوق کے ساتھ احسان کیا اور محسنین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے احسان کے مطابق دنیا میں ان کی ثنائے حسن کو پھیلاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ دلالت کرتا ہے کہ ایمان بندوں کے لیے بلند ترین منزل ہے، جو تمام شرائع اور اس کے اصول و فروع پر مشتمل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی، ان کے ایمان کی بنا پر مدح و ثنا کی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن عبدِهِ ورسولِهِ نوح عليه السلام أول الرسل أنَّه لما دعا قومه إلى الله تلك المدةَ الطويلة، فلم يزدهم دعاؤُهُ إلاَّ فراراً؛ أنه نادى ربَّه، فقال: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين ديّاراً ... } الآية، وقال: {ربِّ انصُرْني على القوم المُفْسِدينَ}. فاستجاب اللهُ له، ومدح تعالى نفسه، فقال: {فَلَنِعْمَ المجيبونَ}: لدعاء الداعينَ وسماع تَبَتُّلِهِم وتضرُّعهم، أجابه إجابةً طابقتْ ما سأل، نَجَّاه وأهلَه من الكرب العظيم، وأغرقَ جميع الكافرين، وأبقى نسلَه وذُرِّيَّته متسلسلين؛ فجميع الناس من ذُرِّيَّة نوح عليه السلام، وجعل له ثناءً حسناً مستمرًّا إلى وقت الآخرين، وذلك لأنَّه محسنٌ في عبادة الخالق، محسنٌ إلى الخلق، وهذه سنَّته تعالى في المحسنين؛ أنْ يَنْشُرَ لهم من الثناء على حسب إحسانهم، ودلَّ قولُه: {إنَّه من عبادِنا المؤمنينَ}: أنَّ الإيمانَ أرفعُ منازل العباد، وأنَّه مشتملٌ على جميع شرائع الدِّين وأصولِهِ وفروعِهِ؛ لأنَّ الله مَدَحَ به خواصَّ خلقِهِ.