تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ:} یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح {”نَحْنُ“} محذوف ہے، یعنی یقینا ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳۶ تا ۴۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[44] یعنی ہم نے سیدنا نوحؑ کی فریاد سنی تو ان کی فریاد رسی کر دی۔ ان کی مصیبت کا ازالہ کر دیا، انہیں ظالموں سے نجات دے دی۔ کیونکہ یہ بات ہمارے ذمہ ہے کہ حق و باطل کے معرکہ میں ہم ایمانداروں کی فریاد رسی کیا کرتے ہیں۔ اور انہیں ظالموں سے بچا لیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔
ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔
یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عبدِهِ ورسولِهِ نوح عليه السلام أول الرسل أنَّه لما دعا قومه إلى الله تلك المدةَ الطويلة، فلم يزدهم دعاؤُهُ إلاَّ فراراً؛ أنه نادى ربَّه، فقال: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين ديّاراً ... } الآية، وقال: {ربِّ انصُرْني على القوم المُفْسِدينَ}. فاستجاب اللهُ له، ومدح تعالى نفسه، فقال: {فَلَنِعْمَ المجيبونَ}: لدعاء الداعينَ وسماع تَبَتُّلِهِم وتضرُّعهم، أجابه إجابةً طابقتْ ما سأل، نَجَّاه وأهلَه من الكرب العظيم، وأغرقَ جميع الكافرين، وأبقى نسلَه وذُرِّيَّته متسلسلين؛ فجميع الناس من ذُرِّيَّة نوح عليه السلام، وجعل له ثناءً حسناً مستمرًّا إلى وقت الآخرين، وذلك لأنَّه محسنٌ في عبادة الخالق، محسنٌ إلى الخلق، وهذه سنَّته تعالى في المحسنين؛ أنْ يَنْشُرَ لهم من الثناء على حسب إحسانهم، ودلَّ قولُه: {إنَّه من عبادِنا المؤمنينَ}: أنَّ الإيمانَ أرفعُ منازل العباد، وأنَّه مشتملٌ على جميع شرائع الدِّين وأصولِهِ وفروعِهِ؛ لأنَّ الله مَدَحَ به خواصَّ خلقِهِ.