ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 66

فَاِنَّہُمۡ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡہَا فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ؕ۶۶﴾
پس بے شک وہ یقینا اس میں سے کھانے والے ہیں، پھر اس سے پیٹ بھرنے والے ہیں۔ En
سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
En
(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66) {فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا …:} یعنی جہنمیوں پر ایسی خوف ناک بھوک مسلط ہو گی کہ زقوم کے نہایت تلخ ہونے اور گلے میں اٹکنے کے باوجود اسے چارو ناچار کھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ مزمل (۱۲، ۱۳) اور غاشیہ (۶، ۷) اور پیٹ بھر کر کھائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

66۔ 1 یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

66۔ (اہل دوزخ) اسی کو کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔