(آیت 34){ اِنَّاكَذٰلِكَنَفْعَلُبِالْمُجْرِمِيْنَ:} مجرمین سے مراد کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے تکبر کرتے تھے۔ یعنی ان کے ساتھ ہم یہی سلوک کرتے ہیں کہ جس طرح وہ جرم میں باہم شریک تھے، عذاب میں بھی باہم شریک ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ واقعی ہم مجرموں سے ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔