ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 180

سُبۡحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الۡعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾ۚ
پاک ہے تیرا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے)
En
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 180تا182) {سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ …:} چونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے متعلق کفار کے برے اقوال، مثلاً اس کی اولاد یا اس کے شرکاء بنانے کا ذکر ہے، اس لیے آخر میں ان کی ایسی تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا ذکر فرمایا۔ گویا یہ ان کے شرکیہ عقائد و اقوال کی تردید اور انبیاء اور ان کی اقوام کے احوال کے ذکر کے بعد پوری سورت کا خلاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب یا نقص لازم آتا ہے، اللہ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے، کیونکہ وہ ساری عزت کا مالک ہے اور رسولوں پر سلام ہے کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے تکالیف برداشت کرکے بھی مسلسل اللہ کی توحید پیش کرتے رہے۔ اور ہر بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ جو خوبی اور جو تعریف بھی ہے وہ اللہ کی ہے، کیونکہ وہی تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔ کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو بھی اسی کی ہے، کیونکہ وہ اسی کی عطا کردہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

180۔ 1 اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، مثلًا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کو تاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

180۔ آپ کا پروردگار جو عزت کا مالک ہے ان باتوں سے پاک [98] ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔
[98] یہ اس سورۃ کا تتمہ ہے۔ مشرکوں کے شرکیہ عقائد کی مدلل تردید کے بعد نتیجہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات و صفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں اور جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کچھ عیوب اور نقص لازم آتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ رسولوں پر سلامتی ہو کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے دکھ سہہ سہہ کر بھی خالص توحید کی دعوت مسلسل پیش کرتے رہے۔ انہوں نے صرف اللہ کی عیوب سے پاکیزگی کا سبق ہی نہیں دیا بلکہ یہ تعلیم بھی دی کہ ہر طرح اچھی صفات، خوبیاں اور تعریف کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کیونکہ وہی تمام کائنات کا پروردگار ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برأت بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔
اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں }۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29704:]‏‏‏‏ یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔
ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے { جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف]‏‏‏‏، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔۱؎ [بغوی:40/4:ضعیف]‏‏‏‏
طبرانی کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا }۔۱؎ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف]‏‏‏‏
مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ { یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ»۱؎ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿سُبْحٰؔنَ رَبِّكَ آپ کا رب پاک ہے یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الْ٘عِزَّةِ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰ٘مٌ عَلَى الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔
وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہم السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر في هذه السورة كثيراً من أقوالهم الشنيعة التي وَصَفوه بها؛ نزَّهَ نفسَه عنها، فقال: {سبحانَ ربِّك}؛ أي: تنزَّه وتعالى، {ربِّ العزَّةِ}؛ أي: الذي عزَّ فقهر كلَّ شيء، واعتزَّ عن كل سوءٍ يصفونه به، {وسلامٌ على المرسلين}: لسلامتهم من الذُّنوب والآفات، وسلامة ما وصفوا به فاطر الأرض والسماوات. {والحمدُ لله ربِّ العالمين}: الألف واللام للاستغراق؛ فجميعُ أنواع الحمدِ من الصفاتِ الكاملةِ العظيمةِ والأفعالِ التي ربَّى بها العالمينَ وأدَرَّ عليهم فيها النِّعم وصَرَفَ عنهم بها النِّقَمَ ودَبَّرَهم تعالى في حَرَكاتِهِم وسكونِهِم وفي جميع أحوالِهِم كلِّها لله تعالى؛ فهو المقدَّسُ عن النقص، المحمودُ بكلِّ كمال، المحبوبُ المعظَّم، ورسلُهُ سالمون مسلَّم عليهم، ومن اتَّبَعَهم في ذلك له السلامةُ في الدُّنيا والآخرة، وأعداؤُهُ لهم الهلاك والعطبُ في الدُّنيا والآخرة.