تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے { جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف]، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔۱؎ [بغوی:40/4:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا }۔۱؎ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف]
مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ { یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح] میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر في هذه السورة كثيراً من أقوالهم الشنيعة التي وَصَفوه بها؛ نزَّهَ نفسَه عنها، فقال: {سبحانَ ربِّك}؛ أي: تنزَّه وتعالى، {ربِّ العزَّةِ}؛ أي: الذي عزَّ فقهر كلَّ شيء، واعتزَّ عن كل سوءٍ يصفونه به، {وسلامٌ على المرسلين}: لسلامتهم من الذُّنوب والآفات، وسلامة ما وصفوا به فاطر الأرض والسماوات. {والحمدُ لله ربِّ العالمين}: الألف واللام للاستغراق؛ فجميعُ أنواع الحمدِ من الصفاتِ الكاملةِ العظيمةِ والأفعالِ التي ربَّى بها العالمينَ وأدَرَّ عليهم فيها النِّعم وصَرَفَ عنهم بها النِّقَمَ ودَبَّرَهم تعالى في حَرَكاتِهِم وسكونِهِم وفي جميع أحوالِهِم كلِّها لله تعالى؛ فهو المقدَّسُ عن النقص، المحمودُ بكلِّ كمال، المحبوبُ المعظَّم، ورسلُهُ سالمون مسلَّم عليهم، ومن اتَّبَعَهم في ذلك له السلامةُ في الدُّنيا والآخرة، وأعداؤُهُ لهم الهلاك والعطبُ في الدُّنيا والآخرة.