ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 167

وَ اِنۡ کَانُوۡا لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۙ
اور بے شک وہ (کافر) تو کہا کرتے تھے۔ En
اور یہ لوگ کہا کرتے تھے
En
کفار تو کہا کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 167تا170){ وَ اِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ } اصل میں {وَ إِنَّهُمْ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ} تھا۔ دلیل اس کی { لَيَقُوْلُوْنَ } پر آنے والا لام ہے، جس کی وجہ سے {إِنَّ} کو {إِنْ} کر دیا اور {هُمْ} کو حذف کر دیا۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۴۲) اور سورۂ انعام (۱۵۶، ۱۵۷) یعنی یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ گزشتہ لوگوں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا، یا ہم پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ مگر جب یہ کتاب ان کے پاس آ گئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اب اس انکار کا نتیجہ وہ بہت جلدی جان لیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

167۔ اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے کہ:

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔