(آیت 166){ وَاِنَّالَنَحْنُالْمُسَبِّحُوْنَ۠:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَلَهٗمَنْفِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَنْعِنْدَهٗلَايَسْتَكْبِرُوْنَعَنْعِبَادَتِهٖوَلَايَسْتَحْسِرُوْنَ (19) يُسَبِّحُوْنَالَّيْلَوَالنَّهَارَلَايَفْتُرُوْنَ»[الأنبیاء: ۱۹، ۲۰]”اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
166۔ 1 مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
166۔ اور تسبیح کرنے والے ہیں [94]
[94] اللہ اور جبرئیلؑ کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب:۔
مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنا معبود قرار دیتے تھے۔ ان تین آیات میں فرشتوں کی زبان سے اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتہ کا ایک مقر رہ درجہ اور مقام ہے جس سے آگے ہم بڑھ نہیں سکتے۔ چنانچہ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرئیلؑ سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو جبرئیلؑ نے جواب دیا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب ہیں اگر میں اپنے مقام سے ذرا بھی آگے بڑھنے کی کوشش کروں تو جل جاؤں۔ [ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء] اور ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم ہر وقت اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے تسبیح و تہلیل کرتے رہتے ہیں اور ہمہ وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔