(آیت 160){ اِلَّاعِبَادَاللّٰهِالْمُخْلَصِيْنَ:} اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ اللہ کے مخلص بندے ایسی باتیں نہیں کہتے، یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ دوسری یہ کہ جنّ جانتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حاضر کیے جانے والے ہیں، مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں، جنّ ہوں یا انسان، وہ اس گرفتاری سے آزاد رہیں گے، کیونکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔ وہ نہایت اعزاز کے ساتھ بلائے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
160۔ 1 یعنی اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کئے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
160۔ سوائے اللہ کے مخلص بندوں [92] کے (جو ایسے اتہام نہیں لگاتے)
[92] یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے نہ اللہ کے حضور گرفتار کر کے پیش کئے جائیں گے اور نہ انہیں عذاب ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔