ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 159

سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ۙ
اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے
En
جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 159) {سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

159۔ اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿سُبْحٰؔنَ اللّٰهِ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سبحانَ الله}: الملك العظيم، والكامل الحليم، عما يصِفه به المشركون من كل وصفٍ أوجَبَه كفرُهم وشركُهم. {إلاَّ عبادَ الله المخلَصين}: فإنَّه لم يُنَزِّهْ نفسَه عمَّا وَصَفوه به؛ لأنَّهم لم يَصِفوه إلاَّ بما يليق بجلالِهِ، وبذلك كانوا مخلَصين.