وَ جَعَلُوۡا بَیۡنَہٗ وَ بَیۡنَ الۡجِنَّۃِ نَسَبًا ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمَتِ الۡجِنَّۃُ اِنَّہُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾ۙ
اور انھوں نے اس کے درمیان اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنادی، حالانکہ بلا شبہ یقینا جن جان چکے ہیں کہ بے شک وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔
En
اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا۔ حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے
En
اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 158) ➊ { وَ جَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَ بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا …:} اللہ تعالیٰ اور جنّوں کے درمیان نسب بنانے سے کیا مراد ہے؟ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں دو قول ذکر کیے ہیں، پہلا مجاہد کا قول کہ مشرکین نے کہا، فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو ان کی مائیں کون ہیں؟ انھوں نے کہا {”بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ“} ”سردار جننیوں کی بیٹیاں۔“ مگر اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ اور جنّوں کے درمیان نسبی رشتہ قائم نہیں ہوتا، بلکہ صہری یعنی سسرالی رشتہ قائم ہوتا ہے، کیونکہ جننیوں کی بیٹیاں (نعوذ باللہ) اللہ کی بیویاں ہوں تو جنّ سسر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مجاہد کی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات بھی نہیں، اس لیے یہ منقطع ہے۔ دوسرا قول ابن عباس رضی اللہ عنھما کا نقل کیا ہے کہ اللہ کے ان دشمنوں نے اللہ تعالیٰ اور ابلیس کو دو بھائی قرار دیا۔ مفسرین نے اس تشریح میں فرمایا کہ یہ ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ خالق دو ہیں، ایک خالق خیر، جسے ”یزداں“ کہتے ہیں اور ایک خالقِ شر، جسے ”اہرمن“ کہتے ہیں۔ مگر اس تفسیر میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو اس کی سند ثابت نہیں، کیونکہ یہ طبری نے عوفی عن ابن عباس کے طریق سے بیان کی ہے، جو ضعیف ہے، دوسرے اس میں اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان بھائی ہونے کے رشتے کا بیان ہے، جب کہ آیت میں عام جنّوں کا ذکر ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں {” الْجِنَّةِ “} سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ جنّات کو ان کے چھپے ہوئے ہونے کی وجہ سے ”جنّ “ کہتے ہیں، جیسا کہ جنین، جنون وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے اور فرشتے بھی چھپے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ انھوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان نسبی رشتہ قرار دیا ہے، اس طرح کہ انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ مگر اس میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو فرشتوں کو ”جنّ“ کہنا بہت بڑا تکلف ہے، کیونکہ جنّ آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور فرشتے نور سے۔ دوسری خرابی یہ ہے کہ یہ بات تو اوپر آیت (۱۵۳) میں گزر چکی ہے: «اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَ» اسے بلا ضرورت دوبارہ ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ میں نے اس مسئلے میں بہت سی تفاسیر کا مطالعہ کیا، سب کا خلاصہ یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کر دیا۔ آخر میں مجھے مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر سے اطمینان ہوا، وہ یہ کہ مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے جنّوں کو اللہ کے بیٹے (یا اولاد) کہتے تھے۔ دلیل اس کی اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے کہ انھوں نے اللہ کے درمیان اور جنّوں کے درمیان نسب قرار دیا۔ ظاہر ہے نسب کا اطلاق سب سے پہلے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہوتا ہے۔ مشرکوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور اللہ سے زیادہ سچا راوی کون ہو سکتا ہے؟ (واللہ اعلم)
➋ { وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ: ”مُحْضَرُوْنَ“} (حاضر کیے گئے) انھی کے متعلق کہا جاتا ہے جو خود آنا نہ چاہتے ہوں۔ یعنی یقینا جنّوں کو معلوم ہے کہ وہ حساب کے لیے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ کیا باپ کا اولاد کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے؟
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں {” الْجِنَّةِ “} سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ جنّات کو ان کے چھپے ہوئے ہونے کی وجہ سے ”جنّ “ کہتے ہیں، جیسا کہ جنین، جنون وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے اور فرشتے بھی چھپے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ انھوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان نسبی رشتہ قرار دیا ہے، اس طرح کہ انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ مگر اس میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو فرشتوں کو ”جنّ“ کہنا بہت بڑا تکلف ہے، کیونکہ جنّ آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور فرشتے نور سے۔ دوسری خرابی یہ ہے کہ یہ بات تو اوپر آیت (۱۵۳) میں گزر چکی ہے: «اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَ» اسے بلا ضرورت دوبارہ ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ میں نے اس مسئلے میں بہت سی تفاسیر کا مطالعہ کیا، سب کا خلاصہ یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کر دیا۔ آخر میں مجھے مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر سے اطمینان ہوا، وہ یہ کہ مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے جنّوں کو اللہ کے بیٹے (یا اولاد) کہتے تھے۔ دلیل اس کی اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے کہ انھوں نے اللہ کے درمیان اور جنّوں کے درمیان نسب قرار دیا۔ ظاہر ہے نسب کا اطلاق سب سے پہلے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہوتا ہے۔ مشرکوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور اللہ سے زیادہ سچا راوی کون ہو سکتا ہے؟ (واللہ اعلم)
➋ { وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ: ”مُحْضَرُوْنَ“} (حاضر کیے گئے) انھی کے متعلق کہا جاتا ہے جو خود آنا نہ چاہتے ہوں۔ یعنی یقینا جنّوں کو معلوم ہے کہ وہ حساب کے لیے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ کیا باپ کا اولاد کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
158۔ 1 یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نے جنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی اللہ کی بیٹیاں، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔ 158۔ 2 حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عتاب و عذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہوسکتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
158۔ نیز ان لوگوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا ڈالی۔ حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ (مجرم کی حیثیت سے) پیش [91] کئے جائیں گے
[91] جنوں اور اللہ تعالیٰ میں سسرالی رشتہ:۔
مشرکین عرب سے جب پوچھا جاتا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو ان کی مائیں کون ہیں؟ تو وہ کہہ دیتے کہ ”جنوں کی عورتیں“ اس طرح گویا وہ ایک اور ظلم ڈھاتے تھے اور جنوں اور اللہ تعالیٰ میں دامادی اور سسرال کا رشتہ قائم کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یوں دیا کہ جن ایک مکلف مخلوق ہے۔ جو اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے۔ پھر ان کی اکثریت جہنم میں جائے گی اور تم نے انہیں اللہ کا سسر بنا ڈالا ہے۔ تمہاری بے ہودگی کی کوئی انتہا ہے؟ کیا تم یہ گوارا کرتے ہو کہ اپنے داماد کو آگ میں جھونک دو یا جس کو تم آگ میں جھونکتے ہو اسے اپنا داماد بنانا گوارا کر سکتے ہو؟ آخر اللہ کے بارے میں تمہاری عقلوں میں اتنا فتور کیوں آجاتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔