ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 123

وَ اِنَّ اِلۡیَاسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ؕ
اور بلاشبہ الیاس یقینا رسولوں میں سے تھا۔ En
اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے
En
بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 124،123) {وَ اِنَّ اِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …: اَلَا تَتَّقُوْنَ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء کی آیت (۱۰۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

123۔ 1 یہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

123۔ اور الیاس بھی بلا شبہ رسولوں میں سے تھے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔
خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔
لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔
الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔
الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔‏‏‏‏
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔
ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس علیہ السلام کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں بعل کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔
﴿فَكَذَّبُوْهُ انھوں نے حضرت الیاس علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكْنَا عَلَیْهِ یعنی الیاس علیہ السلام کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِی الْاٰخِرِیْنَ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰ٘مٌ عَلٰۤى اِلْ یَ٘اسِیْنَ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ پس اللہ تعالیٰ نے الیاس علیہ السلام کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین علیہما السلام کو مدح و ثنا سے نوازا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يمدحُ تعالى عبدَه ورسولَه إلياس عليه الصلاةُ والسلام بالنبوَّةِ والرسالة والدَّعوة إلى الله، وأنَّه أمر قومَه بالتَّقوى وعبادة الله وحدَه، ونهاهم عن عبادَتِهِم صنماً لهم يُقالُ له: بعلٌ، وتركِهِم عبادَة الله الذي خَلَقَ الخلقَ، وأحسنَ خَلْقَهم وربَّاهم فأحسنَ تربِيتهم، وأدرَّ عليهم النِّعَمَ الظاهرة والباطنة، وأنَّكم كيف تركتُم عبادةَ مَنْ هذا شأنُه إلى عبادة صنم لا يضرُّ ولا ينفع ولا يخلُق ولا يرزُقُ، بل لا يأكل ولا يتكلَّم، وهل هذا إلاَّ من أعظم الضلال والسَّفه والغيِّ. {فكذَّبوه}: فيما دعاهم إليه، فلم ينقادوا له، قال الله متوعِّداً لهم: {فإنَّهم لَمُحْضَرونَ}؛ أي: يوم القيامةِ في العذاب، ولم يذكرْ لهم عقوبةً دنيويَّةً {إلاَّ عباد الله المُخْلَصينَ}؛ أي: الذين أخلصهم الله ومَنَّ عليهم باتِّباع نبيِّهم؛ فإنَّهم غير محضرين في العذاب، وإنَّما لهم من الله جزيل الثواب. {وتركنا عليه}؛ أي: على إلياس {في الآخِرين}: ثناءً حسناً. {سلامٌ على إل ياسينَ}؛ أي: تحية من الله ومن عبادِهِ عليه. {إنَّا كذلك نَجْزي المُحْسِنينَ. إنَّه من عبادِنا المؤمنينَ}: فأثنى اللهُ عليه كما أثنى على إخوانِهِ صلواتُ الله وسلامُه عليهم أجمعينَ.