تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔
لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔
الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔
الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يمدحُ تعالى عبدَه ورسولَه إلياس عليه الصلاةُ والسلام بالنبوَّةِ والرسالة والدَّعوة إلى الله، وأنَّه أمر قومَه بالتَّقوى وعبادة الله وحدَه، ونهاهم عن عبادَتِهِم صنماً لهم يُقالُ له: بعلٌ، وتركِهِم عبادَة الله الذي خَلَقَ الخلقَ، وأحسنَ خَلْقَهم وربَّاهم فأحسنَ تربِيتهم، وأدرَّ عليهم النِّعَمَ الظاهرة والباطنة، وأنَّكم كيف تركتُم عبادةَ مَنْ هذا شأنُه إلى عبادة صنم لا يضرُّ ولا ينفع ولا يخلُق ولا يرزُقُ، بل لا يأكل ولا يتكلَّم، وهل هذا إلاَّ من أعظم الضلال والسَّفه والغيِّ. {فكذَّبوه}: فيما دعاهم إليه، فلم ينقادوا له، قال الله متوعِّداً لهم: {فإنَّهم لَمُحْضَرونَ}؛ أي: يوم القيامةِ في العذاب، ولم يذكرْ لهم عقوبةً دنيويَّةً {إلاَّ عباد الله المُخْلَصينَ}؛ أي: الذين أخلصهم الله ومَنَّ عليهم باتِّباع نبيِّهم؛ فإنَّهم غير محضرين في العذاب، وإنَّما لهم من الله جزيل الثواب. {وتركنا عليه}؛ أي: على إلياس {في الآخِرين}: ثناءً حسناً. {سلامٌ على إل ياسينَ}؛ أي: تحية من الله ومن عبادِهِ عليه. {إنَّا كذلك نَجْزي المُحْسِنينَ. إنَّه من عبادِنا المؤمنينَ}: فأثنى اللهُ عليه كما أثنى على إخوانِهِ صلواتُ الله وسلامُه عليهم أجمعينَ.