بَلۡ عَجِبۡتَ وَ یَسۡخَرُوۡنَ ﴿۪۱۲﴾
بلکہ تو نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔
En
ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں
En
بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 13,12) ➊ {بَلْ عَجِبْتَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہاں {” بَلْ “} لانے کا کیا فائدہ ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا {” فَاسْتَفْتِهِمْ “} (ان سے پوچھ) کہ تمھیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کر چکے؟ جواب اس کا اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ یقینا وہ سب کچھ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ اس سوال کا مقصد انھیں لاجواب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ لوگ قیامت سے انکار کیوں کرتے ہیں، یہ بات انسان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی، بلکہ اے نبی یا اے مخاطب! اس پر تجھے تعجب ہوتا ہے اور تعجب ہونا بھی چاہیے، کیونکہ بات ہی تعجب کی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [الرعد: ۵] ”اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“
➋ {وَ يَسْخَرُوْنَ:} یعنی تجھے ان پر تعجب ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب دلائل سے لاجواب ہوتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔
➋ {وَ يَسْخَرُوْنَ:} یعنی تجھے ان پر تعجب ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب دلائل سے لاجواب ہوتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی آپ کو تو منکرین آخرت کے انکار پر تعجب ہو رہا ہے کہ اس کے امکان بلکہ وضاحت کے اتنے واضح دلائل کے باوجود وہ اسے مان کر نہیں دے رہے اور وہ آپ کے دعوائے قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیوں کر ممکن ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ آپ کو تو (اللہ کی ایسی قدرتوں پر) تعجب [8] ہے اور یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں
[8] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے ایسے عظیم تخلیقی کارنامے سن کر تعجب ہوتا ہے مگر یہ لوگ نہایت بے فکری اور لاپروائی سے ایسی محیر العقول نشانیوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں یا آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قدر بے حس اور نا انصاف لوگ ہیں کہ اللہ کی ایسی واضح قدرتیں بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے لیئے دوبارہ پیدا کرنا دشوار نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «أَمْ مَنْ عَدَدنَا» ہے مطلب یہ ہے کہ ’ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں؟ ‘
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ‘۔
پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آ جاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آ جائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقیناً دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز،اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ‘۔
فرماتا ہے «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ۱؎ [27-النمل:87] ’ ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ‘۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ احوالِ قیامت کو دیکھنے لگے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ‘۔
پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آ جاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آ جائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقیناً دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز،اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ‘۔
فرماتا ہے «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ۱؎ [27-النمل:87] ’ ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ‘۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ احوالِ قیامت کو دیکھنے لگے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»