ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 107

وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۷﴾
اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔ En
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
En
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 107) {وَ فَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ: ذِبْحٌ} (ذال کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی {مَذْبُوْحٌ} یعنی ہم نے اسماعیل علیہ السلام کے فدیے اور بدلے میں ایک عظیم ذبیحہ دیا۔ یہ ایک مینڈھا تھا جو ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے قربان کر دیا۔ اسے عظیم اس لیے فرمایا کہ وہ اسماعیل علیہ السلام جیسے عظیم شخص کا فدیہ تھا اور اس لیے کہ اس کی قربانی عظیم عبادت تھی، جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے سنت قرار پائی۔ تفسیری روایات میں اس مینڈھے کا جنت سے آنے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ یہ وہی مینڈھا تھا جو آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بطور قربانی دیا تھا۔ وہ جنت میں پلتا رہا اور اس موقع پر ابراہیم علیہ السلام کے لیے اتارا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو پہاڑ سے اتارا گیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات اسرائیلی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بھی ثابت نہیں۔ ہاں! یہ ثابت ہے کہ وہ سینگوں والا مینڈھا تھا، جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کعبہ کے چابی بردار) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: [إِنِّيْ كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ حِيْنَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَنَسِيْتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا، فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِيْ أَنْ يَكُوْنَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ، قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّي احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا] [مسند أحمد: 68/4، ح: ۱۶۶۳۷۔ مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے] میں جب بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے اس مینڈھے کے سینگ دیکھے تھے، تو میں تمھیں ان کو ڈھانپنے کا حکم دینا بھول گیا۔ سو انھیں ڈھانپ دو، کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز ہو جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان نے فرمایا: وہ سینگ بیت اللہ میں رہے، حتیٰ کہ بیت اللہ کو آگ لگ گئی تو وہ بھی جل گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے بھیجا (ابن کثیر) اسماعیل ؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحٰی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

107۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی بطور فدیہ [64] دے کر اسے (بیٹے کو) چھڑا لیا
[64] بیٹے کی قربانی کا فدیہ:۔
یہ ذبح عظیم ایک سینگ دار مینڈھا تھا جسے فرشتوں نے عین موقع پر لا کر حاضر کر دیا اور کہا تھا کہ بیٹے کی جگہ اسے قربان کر دو۔ یہی جانثار بیٹے کا فدیہ تھا جسے اللہ نے بھیجا تھا۔ اس لحاظ سے یہ عظیم قربانی تھی اور اس کے عظیم ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کر دی کہ اسی تاریخ کو دنیا بھر کے اہل ایمان جانور قربان کریں۔ اور وفاداری اور جان نثاری کے اس عظیم واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔
ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل تھے یا سیدنا اسحاق علیہما السلام:۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسمٰعیلؑ نہیں بلکہ سیدنا اسحقؑ تھے۔ ان کا نظریہ درج ذیل وجوہ کی رو سے درست معلوم نہیں ہوتا۔
1۔ اسی سورۃ میں پہلے سیدنا ابراہیمؑ کے اس بیٹے کا ذکر آیا جو فی الواقع ذبیح اللہ تھے اور اس کے بعد سیدنا اسحق ؑکا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر 112 میں آرہا ہے۔
2۔ جب سیدنا اسمٰعیلؑ کی بشارت دی گئی تو اس کے ساتھ حلیم کی صفت مذکور ہے۔ اور اس کا تعلق قربانی سے ہے۔ اور جب سیدنا اسحقؑ کی بشارت دی گئی تو اس کے ساتھ صفت علیم ذکر کی گئی۔ [15: 53، 51: 28]
اور اس صفت کا قربانی سے کچھ تعلق نہیں۔ نیز جب سیدنا اسحقؑ کی بشارت دی گئی تو ساتھ ہی یہ بتا دیا گیا کہ اسحق کے بعد ان کا بیٹا یعقوب بھی پیدا ہو گا۔ [11: 71]
اور ظاہر ہے جس بیٹے کے پوتے کی بھی بذریعہ وحی بشارت دی جا چکی ہو اس کے متعلق نوجوانی میں ہی قربانی کی وحی آنا محال ہے۔ کیونکہ پوتے کی بشارت پہلے دی جا چکی تھی۔
3۔ تورات میں یہ تصریح موجود ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بھی مسلم ہے کہ سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام، سیدنا اسحقؑ سے عمر میں بڑے تھے پھر سیدنا اسحقؑ سیدنا اسمٰعیلؑ کی موجودگی میں اکلوتے کیسے ہو سکتے ہیں؟
4۔ قربانی کی یادگار اور اس سے متعلقہ رسوم بنی اسرائیل میں بطور وراثت مسلسل منتقل ہوتی چلی آئی ہیں حتیٰ کہ دور نبوی میں بھی موجود تھیں۔ یہ بات بھی اس بات کی قوی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسمٰعیل تھے نہ کہ سیدنا اسحق علیہ السلام۔
﴿احسان﴾ کا وسیع مفہوم:۔
قربانی اور اس سے متعلقہ رسوم مثلاً سعی صفا و مروہ وغیرہ کا تعلق مکہ سے ہے۔ اور یہ سیدنا اسمٰعیلؑ کا وطن تھا۔ سیدنا اسحقؑ کا اصل وطن ملک شام تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔