ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 101

فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ En
تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی
En
تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) {فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ:} یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسنِ خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: «‏‏‏‏اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ» [إبراہیم: ۳۹] سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آب زم زم مہیا فرمایا اور قبیلہ بنو جرہم کو لابسایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت [55] دی
[55] سیدنا اسماعیل کی بشارت:۔
آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہٰذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسمٰعیلؑ کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔