اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾
اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے۔
En
اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
En
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82){ اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا …:} یہ ایک طرح سے پہلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہے کہ اسے پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں دقت ہی کیا ہو سکتی ہے؟ وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس {” كُنْ “} کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
(1) یعنی اس کی شان تو یہ ہے پھر اس کے لیے سب انسانوں کا زندہ کردینا کون سا مشکل معاملہ ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اس کا کام تو صرف یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا اعادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی [74] ہے۔
[74] اللہ کے کلمہ کن کہنے کا مفہوم:۔
کن یا ’ہو جا‘ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے۔ ایسے امور میں بالعموم اللہ کا قانون تدریج کام کرتا ہے جیسا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام (یا چھ ادوار) میں بنایا۔ اگرچہ اس کی قدرت سے یہ بھی مستبعد نہیں کہ فوراً کسی چیز کو عدم سے وجود میں لے آئے۔ اور اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے کسی کام اور جس مقصد کے لئے بنایا ہے وہ چیز فوراً وہ کام شروع کر دے۔ اس کے لئے صرف اللہ کے امر کی ضرورت ہے اور وہ کام اسی وقت ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اللہ کے اس امر کو ہم روح بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور اس کی مثال یوں سمجھو کہ جیسے کسی کارخانے میں بڑی بڑی دیو ہیکل برقی مشینیں نصب ہوتی ہیں۔ مگر وہ اس وقت تک بے حس و حرکت کھڑی رہتی ہیں جب تک ان میں برقی رو نہ گزاری جائے یا سوئچ آن نہ کیا جائے۔ سوئچ آن کرنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ فوراً متحرک ہو کر اپنا وہ کام کرنا شروع کر دیتی ہیں جس کام کے لئے بنائی گئی تھیں۔ بالکل یہی صورت اللہ تعالیٰ کے امر ”کن“ کی ہے ادھر اللہ نے ارادہ کیا ادھر وہ چیز بن گئی جو مطلوب تھی۔ مقصد یہ ہے کہ تمام انسانوں کی دوبارہ پیدائش بھی فقط اللہ کے ایک اشارے یا ارادے یا امر کن کی محتاج ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ ارادہ کرے گا تو فوراً تمام انسان زندہ ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہو جائیں گے اور انسانوں کے لئے یہ اضطراری امر ہو گا جس کے بغیر انہیں کوئی چارہ نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ ہر چیز پر قادر ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40- غافر: 57] یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کر دیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے گا؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقیناً انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتداءً پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46- الأحقاف: 33]، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنا دیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ ُمردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔
مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کر دوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہ دیتا ہوں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد:160/5:صحیح]
ہر برائی سے اس حی و قیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔
اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہرچیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ » [67- الملك: 1]] پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لمبی سورتیں [یعنی پونے دس پارے] سات رکعت میں پڑھیں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے «الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» [مسند احمد:388/5:ضعیف]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قیام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں [ابوداؤد وغیرہ] انہی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی «اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» پھرپوری سورۃ البقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لرَِبَّیَ الُحَمُدُ پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورۃ البقرہ سورۃ آل عمران سورۃ نساء اور سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔ [سنن ابوداود:874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کر دوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہ دیتا ہوں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد:160/5:صحیح]
ہر برائی سے اس حی و قیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔
اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہرچیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ » [67- الملك: 1]] پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لمبی سورتیں [یعنی پونے دس پارے] سات رکعت میں پڑھیں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے «الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» [مسند احمد:388/5:ضعیف]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قیام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں [ابوداؤد وغیرہ] انہی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی «اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» پھرپوری سورۃ البقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لرَِبَّیَ الُحَمُدُ پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورۃ البقرہ سورۃ آل عمران سورۃ نساء اور سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔ [سنن ابوداود:874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضرت شعبہ رحمہ اللہ کو شک ہے کہ سورۃ المائدہ کہا یا سورۃ الانعام؟ نسائی وغیرہ میں ہے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے «سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔ [سنن ابوداود:873،قال الشيخ الألباني:صحیح]