ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 74

وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۷۴﴾
اور انھوں نے اللہ کے سوا کئی معبود بنالیے، تاکہ ان کی مدد کی جائے۔ En
اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے
En
اور وه اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وه مدد کئے جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74){ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} انسان نے اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی ہے صرف اس لیے کی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں، اس کی کوئی حاجت پوری کریں، یا اس کی کوئی مشکل دور کریں۔ اگر وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لیے کہ اسے سفارش کے بل بوتے پر عذاب سے بچا لیں، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 یہ ان کفران نعمت کا اظہار ہے کہ مذکورہ نعمتیں، جن سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں، سب اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔ لیکن یہ بجائے اس کے کہ یہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں یعنی ان کی عبادت و اطاعت کریں، یہ غیروں سے امیدیں وابستہ کرتے اور انہیں معبود بناتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اور انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی الٰہ بنا رکھے ہیں (اس امید پر) کہ ان کی مدد کی جائے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ ٭٭
مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مدد تو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔
یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بیکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کر سکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔
اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آ رہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں ﴿لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ نَصْرَهُمْ نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو وہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے، استطاعت اور ارادہ۔ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہو جاتی ہے۔ ﴿وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کیے جائیں گے۔ یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ انھوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے براء ت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اسی ہستی کے لیے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا بيانٌ لبطلان آلهة المشركين التي اتَّخذوها مع الله تعالى ورَجَوْا نَصْرَها وشَفْعَها؛ فإنها في غاية العجز. {لا يَسْتَطيعون نَصْرَهم}: ولا أنْفُسَهم يَنْصُرونَ: فإذا كانوا لا يستطيعون نَصْرَهم؛ فكيف يَنْصُرونَهم؟! والنصر له شرطانِ: الاستطاعةُ [والقدرةُ] ؛ فإذا استطاع: يبقى: هل يُريدُ نصرةً مِنْ عَبْدِه أم لا؟ فنفي الاستطاعةِ ينفي الأمرين كليهما. {وهم لهم جُندٌ محضَرون}؛ أي: محضَرون هم وهم في العذاب، ومتبرِّئٌ بعضُهم من بعض، أفلا تبرؤوا في الدنيا من عبادة هؤلاء وأخلصوا العبادةَ للذي بيدِهِ الملكُ والنفعُ والضرُّ والعطاءُ والمنعُ وهو الوليُّ النصيرُ؟!