ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 73

وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ ؕ اَفَلَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
اور ان کے لیے ان میں کئی فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔ En
اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟
En
انہیں ان سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں، اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73) ➊ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ:} سواری اور گوشت کے علاوہ انسان کے لیے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگوں، بالوں اور آنتوں وغیرہ سے سیکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ان کے گوبر کی کھاد بناتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت کے ساتھ زندگی کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے سے آدمی کو پینے کی بھی بہت سی چیزیں مہیا ہوتی ہیں، مثلاً ان کا دودھ اور بے شمار وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۵ تا۸) اور سورۂ زخرف (۱۲ تا ۱۴)۔
➋ { اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیے، اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا، اس نے انھی جانوروں کی قربانیاں غیر اللہ کے آستانوں پر اور ان کے نام پر کیں۔ ان کے نام پر جانور آزاد چھوڑے جن کا ان جانوروں کے پیدا کرنے اور انھیں انسان کا مطیع بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا، اس سے بڑھ کر ناشکری اور نمک حرامی کیا ہو سکتی ہے!؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

73۔ 1 یعنی سواری اور کھانے کے علاوہ بھی ان سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں مثلًا اون اور بالوں سے کئی چیزیں بنتی ہیں، ان کی چربی سے تیل حاصل ہوتا ہے اور یہ باربرداری اور کھیتی باڑی کے کام بھی آتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ نیز ان سے انہیں اور بھی کئی فوائد اور مشروب حاصل ہوتے ہیں کیا پھر بھی یہ شکر ادا [66] نہیں کرتے۔
[66] یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کئے۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اس نے انہیں جانوروں کی قربانیاں بتوں کے نام پر کیں اور استھانوں میں کیں۔ بتوں کے نام پر جانور آزاد چھوڑے۔ جن کا ان جانوروں کی پیدائش میں اور ان کو انسان کے مطیع فرمان بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کفران نعمت اور نمک حرامی ہو سکتی ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔