تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ “} کے الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {”عَالِمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ “} قرار دیتے ہیں۔
➌ { اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی یہ تو نصیحت اور یاد دہانی ہے اور واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿اتجعل نهبي و نهب العبيد﴾
﴿بين العيينه والاقرع﴾
(یعنی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اوراقرع کو دے رہے ہیں)
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شکوہ کی خبر ملی تو آپ نے صرف انصار کو ایک خیمہ کے نیچے اکٹھا کیا پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے یہ شعر کہا ہے اور جب آپ نے مندرجہ بالا شعر پڑھا تو اسے یوں پڑھا:
﴿اتجعل نهبي ونهب العبيد﴾
﴿بين الاقرع والعيينة﴾
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مصرعہ کا وزن توڑ دیا تو یہ سن کر ایک صحابی کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ:
﴿وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِيْ لَه﴾ [مسلم۔ کتاب الجہاد وا لسیر۔ باب فتح مکۃ عن ابی ہریرہ]
آپ نے زندگی بھر میں دو تین شعر کہے جنہیں اگر شعر کے بجائے منظوم کلام کہا جائے تو مناسب ہو گا۔ وہ در اصل نثر کے ٹکڑے ہوتے جو بے ساختہ منظوم بن جاتے تھے اور وہ یہ ہیں۔
1۔
﴿هَلْ أنْتِ اِلَّا اِصْبَعٌ دَمِيْتِ﴾
﴿وَ فِي سَبِيْلِ اللّٰه مَا لَقِيْتِ﴾
”تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہو گئی۔ اگر تو اللہ کی راہ میں زخمی ہو گئی تو کیا ہوا“ [بخاری کتاب الادب۔ باب مایجوز من الشعر]
2۔ جنگ حنین میں ایک موقعہ ایسا آیا جب بہت سے صحابہ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ایک سفید خچر پر سوار بڑے جوش سے دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
﴿اَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ﴾
﴿اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ﴾
”اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ میں نبی ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قولہ تعالیٰ یوم حنین اذ أعجبتکم کثرتکم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے۔ [ابن اعساکر]
ایک بار اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا
كفى بالاسلام والشيب للمرء ناهيا
اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں بلکہ یوں ہے
كفى الشيب ولاسلام للمرء ناھیاًٍ
پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ مچ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے سچ فرمایا [وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ]۔ «الدار المنثور للسیوطی:505/5،ضعیف»
دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے؟ «تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ» انہوں نے کہایا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دراصل یوں ہے «بین عینیتہ» والا قرع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:179/5:مرسل]
سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عیینہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عیینہ خلافت صدیقی میں مرتد ہو گیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے «ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا» یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کر دے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کر دیا کرتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29229:مرسل و منقطع]
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔ «لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولاً صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولیٰ قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا» حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، [صحیح بخاری:4104] ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ «انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب» [صحیح بخاری:4315]
اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کہا،
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت» یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:2802] یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔
اسی طرح ایک حدیث «إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ» [53- النجم: 32] کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ «ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما» یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت: 42] جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ [سنن ابوداود:3869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد:189/6:صحیح]
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف جدا] یہ یاد رہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔
چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لا چکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابوداؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ [سنن ابوداود:5010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينزِّه تعالى نبيَّه محمداً - صلى الله عليه وسلم - عمَّا رماه به المشركون من أنَّه شاعرٌ، وأنَّ الذي جاء به شعرٌ، فقال: {وما علَّمناه الشعرَ وما يَنبَغي له}: أن يكون شاعراً؛ أي: هذا من جنس المحال أن يكون شاعراً؛ لأنَّه رشيدٌ مهتدٍ، والشعراء غاوون، يتَّبِعُهُم الغاوون، ولأنَّ الله تعالى حَسَمَ جميع الشُّبه التي يتعلَّق بها الضالُّون عن رسوله، فحسم أن يكون يكتبُ أو يقرأ، وأخبر أنَّه ما علَّمه الشعر وما ينبغي له.
{إنْ هو إلاَّ ذِكْرٌ وقرآنٌ مبينٌ}؛ أي: ما هذا الذي جاء به إلاَّ ذكرٌ يتذكَّر به أولو الألباب جميع المطالب الدينيَّة؛ فهو مشتملٌ عليها أتمَّ اشتمال، وهو يذكِّرُ العقولَ ما رَكَزَ اللَّهُ في فِطَرِها من الأمر بكلِّ حسنٍ والنهي عن كلِّ قبيح. {وقرآنٌ مُبينٌ}؛ أي: مبينٌ لما يُطْلَبُ بيانُه، ولهذا حذف المعمولَ؛ ليدلَّ على أنَّه مبينٌ لجميع الحقِّ بأدلَّته التفصيليَّة والإجماليَّة والباطل وأدلَّة بطلانِهِ. أنزله الله كذلك على رسولِهِ.