ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 69

وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ وَّ قُرۡاٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۹﴾
اور ہم نے نہ اسے شعر سکھایا ہے اور نہ وہ اس کے لائق ہے۔ وہ تو سراسر نصیحت اور واضح قرآن کے سوا کچھ نہیں۔ En
اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے
En
نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) ➊ { وَ مَا عَلَّمْنٰهُ االشِّعْرَ وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ:} پچھلی آیات سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی کے بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے خیال میں بے وزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے، یہ ان کے اس الزام کا رد ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت و رسالت کے جس مقام پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حُسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ان چیزوں سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبدالمطلب سے ہونے کے، جس کا ہر فرد فطرتاً شاعر ہوتا تھا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں جنگ وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقفّٰی عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا سا وزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے، اسے شعروشاعری نہیں کہا جا سکتا۔ شعر اور شعراء پر مفصل کلام کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء کی آیات (۲۴ ۲ تا ۲۲۷) کی تفسیر۔
➋ { وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ } کے الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {عَالِمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ } قرار دیتے ہیں۔
➌ { اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی یہ تو نصیحت اور یاد دہانی ہے اور واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 مشرکین مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے۔ ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن پاک آپ کی شاعرانہ تک بندی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی۔ کہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت و موعظت ہے۔ شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا اسکی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، نہ اشعار کی اس پر وحی کی، بلکہ اس کے مزاج و طبیعت کو ایسا بنایا کہ شعر سے اسکو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی کا شعر پڑھتے تو اکثر صحیح نہ پڑھ پاتے اور اسکا وزن ٹوٹ جاتا۔ جس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ یہ احتیاط اس لیے کی گئی کہ منکرین پر اتمام حجت اور انکے شبہات کا خاتمہ کردیا جائے۔ اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ قرآن کی شاعرانہ تک بندی کا نتیجہ ہے، جس طرح آپ کی امیت بھی قطع شبہات کے لیے تھی تاکہ لوگ قرآن کی بابت یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس نے فلاں سے سیکھ پڑھ کر اس کو مرتب کرلیا ہے۔ البتہ بعض مواقع پر آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ کا نکل جانا، دو مصرعوں کی طرح ہوتے اور شعری اوزان و بحور کے بھی مطابق ہوتے، آپ کے شاعر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ایسا آپ کے قصدو ارادہ کے بغیر ہوا اور ان کا شعری قالب میں ڈھل جانا ایک اتفاق تھا، جس طرح حنین والے دن آپ کی زبان پر بےاختیار یہ رجز جاری ہوگیا۔ انا النبی لا کذب۔ انا ابن عبد المطلب ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ھل أنت الا اصبع دمیت۔ وفی سبیل اللہ ما لقیت

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ ہم نے اس (نبی) کو شعر کہنا نہیں سکھایا [61] اور یہ اس کے لئے مناسب [62] بھی نہ تھا۔ یہ تو ایک نصیحت اور واضح پڑھی جانے والی کتاب ہے
[61] آپ کے لئے شاعری اس لئے مناسب نہیں کہ شاعروں کے کلام میں جب تک جھوٹ اور مبالغہ کی آمیزش نہ ہو اس کے کلام میں نہ حسن پیدا ہوتا ہے اور نہ دلکشی اور نہ ہی کوئی ان کے اشعار کو پسند کرتا ہے۔ مزید برآں ان کے تخیلات خواہ کتنے ہی بلند ہوں ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کی عملی زندگی عموماً ان کے اقوال کے برعکس ہوتی ہے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے انداز فکر کے لئے کوئی متعین راہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہر میدان میں ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ شعر میں اگر کوئی چیز پسندیدہ ہو سکتی ہے تو وہ اس کی تاثیر اور دل نشینی ہے اور یہ چیز قرآن میں نثر ہونے کے باوجود بدرجہ اتم پائی جاتی ہے گویا شعر میں جو چیز کام کی تھی یا اس کی روح تھی وہ پوری طرح قرآن میں موجود ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ عرب جنہیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ غیر عرب کو عجمی کہتے تھے۔ قرآن کو شعر یا سحر کہنے لگتے تھے اور حامل قرآن کو شاعر اور ساحر۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ شعر اور سحر کو قرآن سے کوئی نسبت نہیں کیا کبھی شاعری یا جادو کی بنیاد پر دنیا میں قومیت و روحانیت کی ایسی عظیم الشان اور لازوال عمارت کھڑی ہو سکتی ہے جو قرآنی تعلیم کی اساس پر قائم ہوئی اور آج تک قائم ہے۔
آپ کا وزن توڑ کر شعر پڑھنا:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ نے طبیعت ہی ایسی بنائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعر کو موزوں نہیں کر سکتے تھے اور اگر کبھی کسی دوسرے شاعر کا کوئی شعر پڑھتے تو اس کا وزن توڑ دیتے تھے۔ چنانچہ سیدنا رافع بن خدیجؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ ہوازن کے اموال غنیمت میں سے ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداس (انصاری) کو کچھ کم دیئے تو اس نے چند شعر کہے جن کا پہلا شعر یہ تھا۔
﴿اتجعل نهبي و نهب العبيد﴾
﴿بين العيينه والاقرع﴾
(یعنی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اوراقرع کو دے رہے ہیں)
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شکوہ کی خبر ملی تو آپ نے صرف انصار کو ایک خیمہ کے نیچے اکٹھا کیا پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے یہ شعر کہا ہے اور جب آپ نے مندرجہ بالا شعر پڑھا تو اسے یوں پڑھا:
﴿اتجعل نهبي ونهب العبيد﴾
﴿بين الاقرع والعيينة﴾
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مصرعہ کا وزن توڑ دیا تو یہ سن کر ایک صحابی کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ:
﴿وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِيْ لَه [مسلم۔ کتاب الجہاد وا لسیر۔ باب فتح مکۃ عن ابی ہریرہ]
آپ نے زندگی بھر میں دو تین شعر کہے جنہیں اگر شعر کے بجائے منظوم کلام کہا جائے تو مناسب ہو گا۔ وہ در اصل نثر کے ٹکڑے ہوتے جو بے ساختہ منظوم بن جاتے تھے اور وہ یہ ہیں۔
آپﷺ کے اشعار:۔
سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جہاد کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھوکر لگی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی انگلی خون آلود ہو گئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انگلی کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھا:
﴿هَلْ أنْتِ اِلَّا اِصْبَعٌ دَمِيْتِ
﴿وَ فِي سَبِيْلِ اللّٰه مَا لَقِيْتِ
”تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہو گئی۔ اگر تو اللہ کی راہ میں زخمی ہو گئی تو کیا ہوا“ [بخاری کتاب الادب۔ باب مایجوز من الشعر]
2۔ جنگ حنین میں ایک موقعہ ایسا آیا جب بہت سے صحابہ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ایک سفید خچر پر سوار بڑے جوش سے دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
﴿اَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ
﴿اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
”اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ میں نبی ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قولہ تعالیٰ یوم حنین اذ أعجبتکم کثرتکم]
[62] آپ كو شعر كيوں نهيں سكهايا گيا؟
ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت شاعرانہ اس لئے نہیں بنائی کہ یہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ جس میں دنیا و آخرت کی زندگی کے ٹھوس حقائق مذکور ہیں۔ جبکہ شاعری نری طبع آزمائی اور خیالی تک بندیاں ہوتی ہیں تو جب قرآن کی شاعری سے کوئی نسبت نہیں تو حامل قرآن کی طبیعت قرآن کے مزاج کے موافق ہونی چاہئے۔ نہ کہ شاعر کے موافق۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی ٭٭
انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری، ضعیفی، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورۃ الروم کی آیت میں ہے۔ «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» [30- الروم: 54]‏‏‏‏، اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا» [22-الحج: 5]‏‏‏‏ ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہو جائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غور کریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔
پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کاشعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں ہوتا تھا۔
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے۔ [ابن اعساکر]‏‏‏‏
ایک بار اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا
كفى بالاسلام والشيب للمرء ناهيا
اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں بلکہ یوں ہے
كفى الشيب ولاسلام للمرء ناھیاًٍ
پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ مچ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے سچ فرمایا [وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ]‏‏‏‏۔ «‏‏‏‏الدار المنثور للسیوطی:505/5،ضعیف»
دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے؟ «تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ» انہوں نے کہایا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دراصل یوں ہے «بین عینیتہ» والا قرع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:179/5:مرسل]‏‏‏‏
سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عیینہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عیینہ خلافت صدیقی میں مرتد ہو گیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا «نفلق ھاما» [آگے کچھ نہ فرما سکے۔ اس پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا]‏‏‏‏۔ «من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما» یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے «ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا» یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کر دے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کر دیا کرتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29229:مرسل و منقطع]‏‏‏‏
دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی «ویاتیک بالا خبار مالم تذود» کو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے «من لم تزود الاخبار» پڑھا تھا، بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا زیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ (‏‏‏‏بیہقی فی السنن الکبری[43/7]‏‏‏‏ضعیف)‏‏‏‏‏‏‏‏
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔ «لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولاً صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولیٰ قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا» حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، [صحیح بخاری:4104]‏‏‏‏ ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ «انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب» [صحیح بخاری:4315]‏‏‏‏
اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کہا،
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت» یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:2802]‏‏‏‏ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔
اسی طرح ایک حدیث «إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ» [53- النجم: 32]‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ «ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما» یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت: 42]‏‏‏‏ جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ [سنن ابوداود:3869،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد:189/6:صحیح]‏‏‏‏
ترمذی میں ہے میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ترمذي:2852،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف جدا]‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔
چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لا چکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابوداؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ [سنن ابوداود:5010،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کر دے اور ڈرا دے جیسے فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6- الانعام: 19]‏‏‏‏ تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرا دوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [11-ھود: 17]‏‏‏‏ یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔