ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 59

وَ امۡتَازُوا الۡیَوۡمَ اَیُّہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو! En
اور گنہگارو! آج الگ ہوجاؤ
En
اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) {وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ:} جنتیوں کی ہر لحاظ سے تکریم اور رب رحیم کی طرف سے سلام کے ذکر کے بعد بتایا کہ جہنمیوں سے کیا کہا جائے گا، یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اے مجرمو! تم جنتیوں سے الگ ہو جاؤ۔ دنیا میں بے شک تم اکٹھے رہے، مگر آج تمھارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ چنانچہ یہود و نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سب الگ ہو جائیں گے (دیکھیے یونس: ۲۸۔ روم: ۱۴ تا ۱۶) اور جو جس کی پرستش کرتا تھا اس کے پیچھے چلا جائے گا، صرف موحد باقی رہ جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ قلم کی آیت (۴۲) «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

59۔ 1 یعنی اہل ایمان سے الگ ہو کر کھڑے ہو۔ یعنی میدان محشر میں اہل ایمان و اطاعت اور اہل کفر و معصیت الگ الگ کردیئے جائیں گے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ مجرمین کو ہی مختلف گروہوں میں الگ الگ کردیا جائے گا۔ مثلًا یہودیوں کا گروہ، عیسائیوں کا گروہ، صائبین اور مجوسیوں کا گروہ، زانیوں کا گروہ، شرابیوں کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ اور اے مجرمو! آج تم الگ [54] ہو جاؤ
[54] اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ دنیا میں مجرم اور فرمانبردار سب ملے جلے رہتے ہیں اور ایسا ہی ممکن ہے کہ باپ مجرم اور بیٹا اللہ کا فرمانبردار ہو اور وہ ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ وہاں یہ صورت نہیں ہو گی۔ نہ وہاں نسب کا لحاظ ہو گا۔ بلکہ مجرموں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اللہ کے فرمانبرداروں سے الگ ہو جائیں اور جن لوگوں کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے بچشم خود دیکھ لیں کہ آج ان کو کیسی کیسی نعمتیں اور آرام مہیا ہیں۔ اور دوسرا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اے گروہ مجرمین! تم باہم مل کر نہ رہو۔ بلکہ الگ الگ کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ تم سے انفرادی طور پر ٹھیک ٹھاک باز پرس ہونے والی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭
فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [10-یونس: 28]‏‏‏‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [30-الروم: 14]‏‏‏‏ [ترجمہ]‏‏‏‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37- الصافات: 23، 22]‏‏‏‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟
لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔
جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟
ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية: 28]‏‏‏‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف]‏‏‏‏