(آیت 58) {سَلٰمٌقَوْلًامِّنْرَّبٍّرَّحِيْمٍ:} یعنی اس بے حد مہربان رب کی طرف سے جنتیوں کو سلام کہا جائے گا۔ دوسری آیات میں ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہو گا۔ رب رحیم کے دیدار اور اس کی طرف سے سلام کے بعد انھیں ہر لحاظ سے سلامتی حاصل ہو گی اور ایسا تحفہ اور ایسی نعمت ملے گی جس سے بڑا تحفہ اور بڑی نعمت کوئی نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اس کی ابدی رضا حاصل ہو جائے گی، جس کے بعد وہ کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۷۲) اور سورۂ یونس (۲۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
(1) اللہ کا سلام، فرشتے اہل جنت کو پہنچائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سلام سے نوازے گا۔
[53] ان اہل جنت کے مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔ خواہ یہ اللہ کی طرف سے سلام فرشتوں کی وساطت سے ہو۔ یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمائیں۔ کیونکہ عالم آخرت کے احوال عالم دنیا جیسے نہیں ہوں گے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا۔ مگر جنت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کو یوں دیکھ سکیں گے جیسے یہاں ہم چاند کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اللہ کو کسی نے نہیں دیکھا البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰؑ سے براہ راست بلاواسطہ کلام ضرور کیا ہے۔ لہٰذا عالم آخرت میں اللہ تعالیٰ کا اہل جنت سے اور اہل جنت کا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا بدرجہ اولیٰ ممکن ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
نیز ان کو ﴿سَلٰ٘مٌ ﴾”سلام“ حاصل ہوگا ﴿مِّنْرَّبٍّرَّحِیْمٍ ﴾”مہربان رب کی طرف سے۔“ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوْلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهم أيضاً {سلامٌ} حاصلٌ لهم {من ربٍّ رحيم}: ففي هذا كلام الربِّ تعالى لأهل الجنةِ وسلامُهُ عليهم، وأكَّده بقولِهِ: {قولاً}: وإذا سَلَّم عليهم الربُّ الرحيمُ؛ حَصَلَتْ لهم السلامةُ التامةُ من جميع الوجوه، وحَصَلَتْ لهم التحيةُ التي لا تَحِيَّةَ أعلى منها ولا نعيم مثلها؛ فما ظنُّك بتحيَّة ملك الملوك، الربِّ العظيم، الرءوف الرحيم، لأهل دار كرامته، الذين أحلَّ عليهم رضوانَه؛ فلا يسخط عليهم أبداً؛ فلولا أنَّ الله تعالى قَدَّرَ أنْ لا يموتوا أو تزولَ قلوبُهم عن أماكنها من الفرح والبهجة والسرور؛ لحصل ذلك، فنرجو ربَّنا أن لا يَحْرمَنا ذلك النعيم، وأن يُمَتِّعَنا بالنظر إلى وجهه الكريم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔