ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 58

سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ ﴿۵۸﴾
سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔ En
پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)
En
مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58) {سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ:} یعنی اس بے حد مہربان رب کی طرف سے جنتیوں کو سلام کہا جائے گا۔ دوسری آیات میں ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہو گا۔ رب رحیم کے دیدار اور اس کی طرف سے سلام کے بعد انھیں ہر لحاظ سے سلامتی حاصل ہو گی اور ایسا تحفہ اور ایسی نعمت ملے گی جس سے بڑا تحفہ اور بڑی نعمت کوئی نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اس کی ابدی رضا حاصل ہو جائے گی، جس کے بعد وہ کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۷۲) اور سورۂ یونس (۲۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) اللہ کا سلام، فرشتے اہل جنت کو پہنچائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سلام سے نوازے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ مہربان پروردگار فرمائے گا (تم پر) سلامتی [53] ہو۔
[53] ان اہل جنت کے مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔ خواہ یہ اللہ کی طرف سے سلام فرشتوں کی وساطت سے ہو۔ یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمائیں۔ کیونکہ عالم آخرت کے احوال عالم دنیا جیسے نہیں ہوں گے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا۔ مگر جنت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کو یوں دیکھ سکیں گے جیسے یہاں ہم چاند کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اللہ کو کسی نے نہیں دیکھا البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰؑ سے براہ راست بلاواسطہ کلام ضرور کیا ہے۔ لہٰذا عالم آخرت میں اللہ تعالیٰ کا اہل جنت سے اور اہل جنت کا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا بدرجہ اولیٰ ممکن ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔