(آیت 53) {اِنْكَانَتْاِلَّاصَيْحَةًوَّاحِدَةً …:} مراد صور میں دوسری دفعہ کی پھونک ہے، جس سے لمحہ بھر میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ دیکھیے سورۂ نحل (۷۷) اور نازعات (۱۳، ۱۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ وہ بس ایک ہی گرجدار آواز ہو گی پھر وہ فوراً سب کے سب [51] ہمارے حضور پیش کر دیئے جائیں گے
[51] جب انہیں صحیح صورت حال کا علم ہو جائے گا تو فرشتے انہیں دھکیل کر میدان محشر کی طرف لے جائیں گے اور وہ مجرموں کی طرح اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے پیش کر دیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ بتا دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جیسے اعمال کر کے آئے ہو ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا تاہم یہ یقین رکھو کہ تمہیں تمہارے جرائم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔