ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 5

تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۵﴾
یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔ En
یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے
En
یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ:} یعنی یہ کسی بے اختیار اور بے بس شخص کا کلام نہیں جس کے جھٹلانے کی کوئی پروا نہ ہو، بلکہ اس اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں نہ کوئی اپنا کلام لا سکتا ہے نہ اس کے کلام کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے اور نہ اسے جھٹلا کر کوئی اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بے حد رحم والا بھی ہے کہ اس نے تمھاری ہدایت کے لیے رسول بھیجا، کتاب نازل فرمائی، پھر تمھیں مہلت دی اور جھٹلانے پر فوراً نہیں پکڑا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی اس اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو عزیز ہے یعنی اس کا انکار اور اس کے رسول کو جھوٹا کرنے والے سے انتقام لینے پر قادر ہے رحیم ہے۔ یعنی جو اس پر ایمان لائے گا اور اس کا بندہ بن کر رہے گا اس کے لئے نہایت مہربان۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ جو غالب اور رحم کرنے والے کا نازل [4] کردہ ہے۔
[4] یعنی اس قرآن حکیم کو نازل کرنے والا کوئی کمزور قسم کا ناصح نہیں ہے جس نے کچھ احکام اور نصائح بھیج دیئے ہوں۔ جسے اگر تم قبول کر لو تو اچھا ہے اور اگر نظر انداز کر دو تو بھی تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ بلکہ اس کا نازل کرنے والا فرمانروائے کائنات ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور وہ رحیم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے تمہاری رہنمائی کے لئے یہ قرآن اور یہ نبی بھیج کر تم پر بہت مہربانی فرمائی ہے۔ تاکہ تم لوگ گمراہیوں سے بچ کر دنیا و آخرت کی فلاح سے ہمکنار ہو سکو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔