ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 49

مَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً تَاۡخُذُہُمۡ وَ ہُمۡ یَخِصِّمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک ہی چیخ کا، جو انھیں پکڑلے گی جب کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ En
یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی
En
انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً …:} ان کے جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، بلکہ ان کے سامنے قیامت کے چند ہولناک مناظر کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے۔
➋ {اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً:} ایک ہی چیخ سے مراد اسرافیل علیہ السلام کا پہلی دفعہ صور میں پھونکنا ہے، جس سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ لوگ جس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس کے لیے ہمیں کسی لمبی چوڑی تیاری کی ضرورت نہیں، صرف ایک مرتبہ صور میں پھونک دیا جائے گا، جس کی چیخ کی آواز سے سب لوگ بے ہوش ہو کر مر جائیں گے۔
➌ {تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ يَخِصِّمُوْنَ: يَخِصِّمُوْنَ } اصل میں { يَخْتَصِمُوْنَ} (افتعال) ہے۔ تاء کو صاد کے ساتھ بدل کر صاد میں ادغام کر دیا اور صاد کی موافقت کے لیے خاء کو بھی کسرہ دے دیا۔ ادغام سے ان کے جھگڑنے کی شدت بیان کرنا مقصود ہے۔ یعنی وہ قیامت آہستہ آہستہ نہیں آئے گی، جسے دیکھ کر وہ کچھ سنبھل جائیں، بلکہ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور پورے زور و شور سے ایک دوسرے سے جھگڑا اور بحث کر رہے ہوں گے کہ اچانک ایک چیخ سے قیامت برپا ہو جائے گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَقُوْمُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ فَمَا يَصِلُ الْإِنَاءُ إِلٰی فِيْهِ حَتّٰی تَقُوْمَ وَ الرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتّٰی تَقُوْمَ وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِيْ حَوْضِهِ فَمَا يَصْدُرُ حَتّٰی تَقُوْمَ] [مسلم، الفتن، باب قرب الساعۃ: ۲۹۵۴] قیامت (اتنی اچانک) قائم ہو گی کہ آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہو گا، پھر برتن اس کے منہ تک نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ وہ قائم ہو جائے گی اور دو آدمی کپڑے کی خریدو فروخت کر رہے ہوں گے، تو ابھی سوداکر نہیں پائیں گے کہ وہ قائم ہو جائے گی اور آدمی اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا، ابھی واپس نہیں ہو گا کہ وہ قائم ہو جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی لوگ بازاروں میں خریدو فروخت اور حسب عادت بحث و تکرار میں مصروف ہونگے کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی یہ نفخہ اولیٰ ہوگا جسے نفخہ فزع بھی کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا۔ نَفْخَۃُ الْصَّعْقِ جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ وہ صرف ایک دھماکے کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں آپکڑے گا جبکہ یہ آپس میں [47] جھگڑ رہے ہوں گے۔
[47] قیامت دفعتاً آجائے گی:۔
قیامت جب آئے گی تو وہ آہستہ آہستہ نہیں آئے گی جسے تم دیکھ کر سمجھ لو کہ آرہی ہے اور کچھ سنبھل جاؤ۔ بلکہ اس وقت تم اپنے اپنے کام کاج میں پوری طرح منہمک ہو گے، کوئی کاروبار کر رہا ہو گا، کوئی سودا بازی کرتے ہوئے جھگڑ رہا ہو گا، اس وقت اچانک ایک زور کا دھماکہ ہو گا اور جو شخص جس حال میں بھی ہو گا وہیں دھر لیا جائے گا۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ قیامت اس حال میں آئے گی کہ دو آدمی اپنا کپڑا بچھائے بیٹھے ہوں گے وہ اس کی سودا بازی اور کپڑا لپیٹنے سے ابھی فارغ نہ ہوں گے کہ قیامت آجائے گی اور آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر چلے گا۔ ابھی اس کو پئے گا نہیں کہ قیامت آجائے گی اور کوئی آدمی اپنا حوض لیپ پوت رہا ہو گا پھر ابھی اس کا پانی پیا نہیں جائے گا کہ قیامت آجائے گی اور ایک آدمی کھانے کا نوالہ منہ کی طرف اٹھا رہا ہو گا اور ابھی کھایا نہ ہو گا کہ قیامت آجائے گی۔ [بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب بلا عنوان]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭
کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔
دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔