(آیت 48) ➊ { وَيَقُوْلُوْنَمَتٰىهٰذَاالْوَعْدُ …:} کفار چونکہ قیامت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر تم قیامت لاتے کیوں نہیں؟ اچھا، یہ بتاؤ کہ وہ کب آئے گی؟ اس سے ان کا مقصود تاریخ معلوم ہونے پر اس کی تیاری نہ تھا، بلکہ محض جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا کہ جب وہ فوراً قیامت نہ لا سکیں گے تو ہم کہیں گے قیامت وغیرہ کچھ نہیں۔ ➋ { اِنْكُنْتُمْصٰدِقِيْنَ:} یہ الفاظ ابھارنے کے لیے اور جھوٹا ثابت کرنے میں زور پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ: ”اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہو گا؟“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭
کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔
دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔