(آیت 44) {اِلَّارَحْمَةًمِّنَّاوَمَتَاعًااِلٰىحِيْنٍ:} یہ بس ہماری رحمت اور زندگی کی مقررہ مدت تک مہلت دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم سمندر اور ہواؤں کی سرکش اور بے پناہ قوتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، جس سے مسافر اور تاجر صحیح سلامت دوسرے کنارے پر جا اترتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ مگر ہماری رحمت [43] سے ہی (پار لگ جاتے ہیں) اور کچھ مدت تک زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
[43] یہ بس اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سمندر اور ہواؤں کی سرکش اور بے پناہ قوت کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور مسافر اور تاجر اکثر اوقات صحیح و سلامت دوسرے کنارے پر جا اترتے ہیں۔ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو بنی نوع انسان کی ایک کثیر تعداد سمندر کا لقمہ اجل بن جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔