ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 43

وَ اِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡہُمۡ فَلَا صَرِیۡخَ لَہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡقَذُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ En
اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے
En
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) {وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ …:} یعنی یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے پانی میں بحری جہاز اٹھانے کی خوبی رکھی اور انسان کو کشتیاں اور جہاز بنانے کا سلیقہ سکھایا، پھر ہمارا ہی احسان ہے کہ ہم انھیں سلامتی کے ساتھ منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو غرق ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو گا اور نہ وہ بچائے [42] جا سکیں گے۔
[42] سمندر میں غرقابی کا حسرت ناک منظر:۔
سمندر میں انسان کے کشتی پر سوار ہو کر سفر کرنے کے منظر کو قرآن نے متعدد مقامات پر اپنی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے اگر کسی نے سمندری سفر کیا ہو تو وہی اس منظر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ سمندر کے عین درمیان جہاز چل رہا ہے اوپر دیکھیں تو صرف نیلا آسمان نظر آتا ہے کوئی پرندہ تک نظر نہیں آتا، نیچے دیکھیں تو حد نگاہ تک سیاہ پانی نظر آتا ہے۔ پھر جب سمندر کی موجیں اور تیز ہوائیں جہاز کو ڈگمگا دیتی ہیں تو ہر مسافر سہما سہما نظر آنے لگتا ہے۔ نزدیک کوئی خشکی نہیں، کوئی بستی نہیں جہاز میں سوار تمام مسافروں کی زندگی کا انجام بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ ایک شدید جھٹکا لگے جو جہاز کو الٹ دے تو تمام مسافروں کی لاشیں سمندر کیا تھاہ گہرائیوں تک پہنچ کر دم لیں یا کسی آبی جانور کا لقمہ بن جائیں اور اس حال میں جان دیں کہ ان کے لواحقین کو خبر تک بھی نہ ہو سکے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمْ یُنْقَذُوْنَ اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا نبَّههم على نعمتِهِ عليهم حيث أنْجاهم من الغرقِ مع قدرتِهِ على ذلك، فقال: {وإن نشأ نُغْرِقْهم فلا صريخَ لهم}؛ أي: لا أحد يصرُخُ لهم فيعاوِنُهم على الشدَّة ولا يزيلُ عنهم المشقَّة، {ولا هم يُنقَذونَ}: مما هم فيه.