(آیت 43) {وَاِنْنَّشَاْنُغْرِقْهُمْفَلَاصَرِيْخَلَهُمْ …:} یعنی یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے پانی میں بحری جہاز اٹھانے کی خوبی رکھی اور انسان کو کشتیاں اور جہاز بنانے کا سلیقہ سکھایا، پھر ہمارا ہی احسان ہے کہ ہم انھیں سلامتی کے ساتھ منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو غرق ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو گا اور نہ وہ بچائے [42] جا سکیں گے۔
[42] سمندر میں غرقابی کا حسرت ناک منظر:۔
سمندر میں انسان کے کشتی پر سوار ہو کر سفر کرنے کے منظر کو قرآن نے متعدد مقامات پر اپنی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے اگر کسی نے سمندری سفر کیا ہو تو وہی اس منظر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ سمندر کے عین درمیان جہاز چل رہا ہے اوپر دیکھیں تو صرف نیلا آسمان نظر آتا ہے کوئی پرندہ تک نظر نہیں آتا، نیچے دیکھیں تو حد نگاہ تک سیاہ پانی نظر آتا ہے۔ پھر جب سمندر کی موجیں اور تیز ہوائیں جہاز کو ڈگمگا دیتی ہیں تو ہر مسافر سہما سہما نظر آنے لگتا ہے۔ نزدیک کوئی خشکی نہیں، کوئی بستی نہیں جہاز میں سوار تمام مسافروں کی زندگی کا انجام بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ ایک شدید جھٹکا لگے جو جہاز کو الٹ دے تو تمام مسافروں کی لاشیں سمندر کیا تھاہ گہرائیوں تک پہنچ کر دم لیں یا کسی آبی جانور کا لقمہ بن جائیں اور اس حال میں جان دیں کہ ان کے لواحقین کو خبر تک بھی نہ ہو سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔