ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 42

وَ خَلَقۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ مَا یَرۡکَبُوۡنَ ﴿۴۲﴾
اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ En
اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں
En
اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42){ وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے انسان کو کشتی بنانے کا علم نہ تھا۔ نوح علیہ السلام کی بنائی ہوئی کشتی کے ذریعے سے طوفان سے بچ نکلنے والوں نے بحری سفر کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا جو عام کشتیوں سے باد بانی جہازوں تک پہنچا، پھر انجن والے جہاز ایجاد ہوئے، جن کا سلسلہ ایٹمی ایندھن سے چلنے والے طیارہ بردار جہازوں اور آبدوزوں تک جا پہنچا ہے۔ آگے دیکھیے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم نے ان کے لیے کشتی کی طرح اور سواریاں بھی پیدا کی ہیں، مثلاً اونٹ جو صحرا کا جہاز کہلاتا ہے، اسی طرح موٹر، ریل اور ہوائی جہاز وغیرہ۔ اگرچہ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے، مگر اگلی آیت میں غرق کے ذکر کی وجہ سے { مِنْ مِّثْلِهٖ } سے مراد ایسی سواریاں لینا بہتر ہے جو سمندری سفر میں کام آتی ہیں، جن میں ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔ نو ایجاد سواریوں کا پیشگی ذکر سورۂ نحل (۸) میں ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ پھر ان کے لئے ایسی ہی اور چیزیں پیدا [41] کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔
[41] ﴿من مثله﴾ سے مراد یہ بھی لی جا سکتی ہے کہ سیدنا نوحؑ کی کشتی جیسی کشتی بنانا انسان نے سیکھ لیا جس کی تعلیم اللہ نے دی تھی۔ اس لحاظ سے سیدنا نوحؑ ہی کشتی یا جہاز کے موجد ہیں اور یہ مراد بھی لی جا سکتی ہے کہ کشتی جیسی کوئی اور چیز یا چیزیں بھی پیدا کیں اور اس سے مراد وہ تمام سواریاں لی جا سکتی ہیں جو سمندر یا خشکی یا فضا میں چلتی ہیں اور انسان ان پر سوار ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سمندر کی تسخیر ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔
اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69- الحاقة: 11، 12]‏‏‏‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔