ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 35

لِیَاۡکُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖ ۙ وَ مَا عَمِلَتۡہُ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ اَفَلَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۵﴾
تاکہ وہ اس کے پھل سے کھائیں، حالانکہ اسے ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔ En
تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟
En
تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں، اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) {لِيَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ …:} یعنی یہ غلے، باغات، چشمے اور پھل ان کی کسی کوشش اور محنت سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ ہم نے پیدا کیا ہے، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے کہ ہماری ہی عبادت کریں، کسی اور کو اس میں شریک نہ کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 یعنی بعض جگہ چشمے جاری کرتے ہیں، جس کے پانی سے پیدا ہونے والے پھل لوگ کھائیں۔ 35۔ 2 امام ابن جریر کے نزدیک یہاں ما نافیہ ہے یعنی غلول اور پھلوں کی یہ پیداوار، اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔ اس میں ان کی سعی و محنت، کدو کاوش اور تصرف کا دخل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ اور بعض کے نزدیک ما موصولہ ہے جو الَّذِیْ کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کا پھل کھائیں اور ان چیزوں کو جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا۔ ہاتھوں کا عمل ہے، زمین کو ہموار کرکے بیج بونا، اسی طرح پھلوں کے کھانے مختلف طریقے ہیں، مثلًا انہیں نچوڑ کر ان کا رس پینا، مختلف فروٹوں کو ملا کر چاٹ بنانا وغیرہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں حالانکہ یہ سب کچھ ان [33] کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ پھر کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے۔
[33] ﴿وَمَا عَمِلَتْهُ أيْدِيْهِمْ﴾ کے مختلف مفہوم : زرعی پیداوار میں انسان کا حصہ:۔
﴿وَمَا عَمِلَتْهُ أيْدِيْهِمْ میں اگر ما کو نافیہ قرار دیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا۔ نباتات کو پیدا کرنا انسان کا کام نہیں۔ نباتات اور پھلوں کی پیدائش میں جس قدر عناصر سرگرم عمل ہیں وہ سب کے سب اللہ کے حکم کے تحت اپنے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں تب جا کر نباتات وجود میں آتی، بڑھتی، پھلتی پھولتی اور انسانوں اور دوسرے جانداروں کا رزق بنتی ہے۔ اور مَا کو موصولہ قرار دیا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگرچہ نباتات کو وجود میں لانے والے سارے عناصر اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں۔ تاہم اس میں کچھ نہ کچھ کام انسانوں کا بھی ہوتا ہے۔ مثلاً انسان بیج ڈالتا ہے، ہل چلاتا ہے، زمین کی سیرابی اور فصل کی نگہداشت کرتا ہے، لیکن اگر وہ غور کرے تو انسان کی یہ استعداد بھی اللہ ہی کا عطیہ ہے۔ اور انسان کے اتنا کام کرنے کے بعد بھی نباتات تب ہی اگ سکتی ہے جب پیداوار کے بڑے بڑے وسائل انسان کی اس حقیر سی کوشش کا ساتھ دیتے ہیں۔ لہٰذا اللہ کا شکر بہرحال واجب ہوا۔
تمام خوردنی اشیاء کی اصل زرعی پیداوار ہے:۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہی اصل اشیاء ہیں پھر انسان ان پر محنت کر کے بعض دوسری اشیائے ضرورت تیار کر لیتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے گندم، گنا، چنے اور دودھ پیدا کیا ہے۔ اب انسان ان سے کچھ چیزیں انفرادی طور پر حاصل کرتا ہے۔ مثلاً گندم سے روٹی، اور اس کی قسمیں اور گنے سے گڑ، شکر اور چینی اور دودھ سے دہی، مکھن، لسی، بالائی اور گھی وغیرہ پھر انہیں چیزوں کے امتزاج سے ہزاروں چیزیں بناتا چلا جاتا ہے۔ اور کئی طرح کے سالن، اچار، چٹنیاں، مربے، مٹھائیاں وغیرہ تیار کر لیتا ہے۔ کئی چیزوں سے اپنی پوشاک کی ضروریات بناتا ہے یہ استعداد بھی انسان کو اللہ ہی نے بخشی ہے۔ لہٰذا ہر حال میں اللہ کا شکر واجب ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔