ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 36

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ وَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ مِمَّا لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۶﴾
پاک ہے وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے ان چیزوں سے جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے جنھیں وہ نہیں جانتے۔ En
وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے
En
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) {سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا …:} یعنی ان لوگوں نے اللہ کے جو شریک بنا رکھے ہیں وہ ان سے پاک ہے۔ پھر اپنی کچھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اس کے ساتھ خاص ہیں اور جن کا تقاضا ہے کہ اسے ہر عیب، ہر نقص اور ہر شرک سے پاک سمجھا جائے۔ {” الْاَزْوَاجَ “} کے کئی معنی ہیں، مثلاً اس کا اطلاق نر و مادہ پر بھی ہوتا ہے۔ مرد عورت کے لیے زوج ہے اور عورت مرد کے لیے اور ان دونوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرتی طور پر ایک دوسرے کے لیے کشش رکھ دی ہے، پھر اس زوج کے ایک دوسرے سے ملنے سے آگے مزید تخلیق کا سلسلہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ صرف حیوانات ہی میں نہیں، نباتات میں بھی پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [الذاریات: ۴۹] ”اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ نباتات میں سے کچھ درخت تو ایسے ہیں جن کا عام انسانوں کو بھی علم ہوتا ہے، مثلاً کھجور اور انار کے درخت نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی، جب پھل لگنے کا موسم ہوتا ہے تو ہوائیں نر درختوں کا بیج اٹھا کر مادہ درختوں پر پھینک دیتی ہیں تو مزید پیدائش عمل میں آتی ہے اور نباتات کی ہر قسم میں نر و مادہ کا سلسلہ موجود ہے، خواہ ابھی تک انسان کو اس کا علم ہوا ہو یا نہ ہو۔ پھر یہ سلسلہ جمادات حتیٰ کہ مادہ کے ایک ذرہ کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ اس میں بھی مثبت اور منفی قوتیں موجود ہیں، جو آپس میں ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتی ہیں۔ دوسرے زوج کا لفظ آپس میں مماثلت رکھنے والی چیزوں کے لیے بھی آتا ہے، مثلاً ایک جوتا دوسرے جوتے کے لیے زوج ہوتا ہے اور اس معنی میں بھی یہ لفظ قرآن میں موجود ہے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌ» ‏‏‏‏ [صٓ: ۵۸] ”اور دوسری اس کی ہم شکل کئی (ازواج) قسمیں۔“ اور ازواج کا ایک معنی ایک دوسرے کے مخالف اشیاء، جیسے دن رات کا زوج ہے اور رات دن کا، یا سایہ دھوپ کا اور دھوپ سائے کا، یا روشنی تاریکی کی زوج اور تاریکی روشنی کی، گویا یہ زوج کا سلسلہ اتنا وسیع ہے جو نباتات اور حیوانات کے علاوہ بھی تمام اشیاء میں پایا جاتا ہے، خواہ تمھیں اس کا علم ہو یا نہ ہو سکے۔ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [الذاریات: ۴۹] ”اور ہم نے ہر چیز سے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“
اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے {” سُبْحٰنَ الَّذِيْ “} کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو ہر قسم کے زوج سے پاک ہے، نہ اس کا کوئی مقابل ہے اور نہ مماثل، کیونکہ مقابلہ یا مماثلت ان چیزوں میں ہو سکتی ہے جو کسی درجہ میں فی الجملہ اشتراک رکھتی ہوں، مگر خالق اور مخلوق کا کسی حقیقت میں اشتراک نہیں ہوتا، اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں شرک کی جتنی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر قسم میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی نہ کسی کمی، کمزوری، عیب یا نقص کا الزام ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے {” سُبْحٰنَ “} کا لفظ کہہ کر مشرکوں کے ہر قسم کے شرکیہ عقیدے کی تردید فرما دی۔ (کیلانی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 یعنی انسانوں کی طرح زمین کی ہر پیداوار میں بھی ہم نے نر مادہ دونوں پیدا کئے۔ علاوہ ازیں آسمانوں میں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی جو چیزیں تم سے غائب ہیں، جن کا علم تم نہیں رکھتے، ان میں زوجیت (نر اور مادہ) کا یہ نظام ہم نے رکھا ہے۔ پس تمام مخلوق جوڑا جوڑا ہے، نباتات بھی نر اور مادے کا یہی نظام ہے۔ حتٰی کہ آخرت کی زندگی، دنیا کی زندگی کے لئے بمنزلہ زوج ہے اور یہ حیات آخرت کے لئے ایک عقلی دلیل بھی ہے۔ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو مخلوق کی صفت سے اور دیگر تمام کوتاہیوں سے پاک ہے۔ وہ (فرد) ہے، زوج نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کی نباتات سے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے اور خود ان کی اپنی [34] جنس کے بھی اور ان چیزوں کے بھی جنہیں یہ جانتے بھی نہیں
[34] زوج کے مختلف معانی اور ان کی وسعت:۔
ازواج کے کئی معنی ہیں مثلاً اس کا اطلاق نر و مادہ پر بھی ہوتا ہے۔ مرد، عورت کے لئے زوج ہے اور عورت مرد کے لئے۔ اور ان دونوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرتی طور پر ایک دوسرے کے لئے کشش رکھ دی ہے۔ پھر اس زوج کے ایک دوسرے سے ملنے سے آگے مزید تخلیق کا سلسلہ چلتا ہے۔ اور یہ سلسلہ صرف حیوانات میں ہی نہیں نباتات میں بھی پایا جاتا ہے۔ کچھ درخت تو ایسے ہیں جن کا عام انسانوں کو بھی علم ہوتا ہے۔ مثلاً کھجور اور انار کے درخت نر بھی ہوتے ہیں اور ما دہ بھی، جب پھل لگنے کا موسم ہوتا ہے تو ہوائیں نر درختوں کا بیج اٹھا کر مادہ درختوں پر پھینک دیتی ہیں۔ تو مزید پیدائش عمل میں آتی ہے۔ اور نباتات کی ہر قسم میں یہ نر و مادہ کا سلسلہ موجود ہے خواہ اس کا ابھی تک انسان کو علم ہوا ہو یا نہ ہو۔ پھر یہ سلسلہ جمادات حتیٰ کہ مادہ کے ایک ذرہ کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ اس میں بھی مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں۔ جو آپس میں ایک دوسرے کے لئے کشش رکھتی ہیں۔ دوسرے زوج کا لفظ آپس میں مماثلت رکھنے والی چیزوں کے لئے بھی آتا ہے۔ مثلاً ایک جوتا دوسرے جوتے کا زوج ہوتا ہے۔ اور اس معنی میں بھی یہ لفظ قرآن میں موجود ہے جیسے فرمایا: ﴿وَاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖ أزْوَاج﴾ [38: 58] (یعنی اس سے ملتی جلتی دوسری چیزیں) اور ازوج کا تیسرا معنی ایک دوسرے کے مخالف اشیاء جیسے دن رات کا زوج ہے اور رات دن کا یا سایہ دھوپ کا اور دھوپ سایہ کا یا روشنی تاریکی کی زوج اور تاریکی روشنی کی گویا یہ زوج کا سلسلہ اتنا وسیع ہے جو نباتات اور حیوانات کے علاوہ بھی تمام اشیاء میں پایا جاتا ہے۔ خواہ تمہیں اس کا علم ہو یا نہ ہو سکے۔ اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے سبحان الذی کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ایک ایسی ذات ہے جو ہر قسم کے زوج سے پاک ہے۔ نہ اس کا کوئی مقابل ہے اور نہ مماثل۔ کیونکہ مقابلہ یا مماثلت ان چیزوں میں ہو سکتی ہے جو کسی درجہ میں فی الجملہ اشتراک رکھتی ہوں مگر خالق اور مخلوق کا کسی حقیقت میں اشتراک نہیں ہوتا اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں شرک کی جتنی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر قسم میں اللہ تعالیٰ اس کی ذات میں کسی نہ کسی کمی، کمزوری، عیب یا نقص کا الزام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سبحان کا لفظ کہہ کر مشرکوں کے ہر قسم کے شرکیہ عقیدہ کی تردید فرما دی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿سُبْحٰؔنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ”پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔“ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ ﴾ ”زمین کی نباتات سے“ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سبحانَ الذي خَلَقَ الأزواجَ كُلَّها}؛ أي: الأصناف كلَّها {مما تُنْبِتُ الأرضُ}: فَنَوَّعَ فيها من الأصناف ما يعسُرُ تعدادُهُ، {ومن أنفسِهِم}: فنوَّعَهم إلى ذكرٍ وأنثى، وفاوتَ بين خَلْقِهِم وخُلُقِهِم وأوصافهم الظاهرة والباطنة {وممَّا لا يعلمونَ}: من المخلوقات التي قد خُلِقَتْ وغابتْ عن عِلْمِنا، والتي لم تُخْلَقْ بعد؛ فسُبحانه وتعالى أن يكونَ له شريكٌ أو ظهيرٌ أو عوينٌ أو وزيرٌ أو صاحبةٌ أو ولدٌ أو سميٌّ أو شبيهٌ أو مثيلٌ في صفاتِ كماله ونعوتِ جلالِهِ، أو يُعْجِزَه شيءٌ يريدُه.