ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 3

اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾
بلاشبہ تو یقینا بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔ En
اے محمدﷺ) بےشک تم پیغمبروں میں سے ہو
En
کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رسول ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ در اصل یہ ان کفار کی تردید ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف کہتے تھے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ کلام پیش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ» ‏‏‏‏ [الرعد: ۴۳] اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ 43؀) 13۔ الرعد:43) ' تو تو پیغمبر ہی نہیں ' اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرف و فضل و اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لئے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کے لئے قسم کھائی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ آپ بلا شبہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔