ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 21

اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسۡـَٔلُکُمۡ اَجۡرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۱﴾
ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ سیدھی راہ پائے ہوئے ہیں۔ En
ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں
En
ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) {اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ:} یعنی پیغمبروں کی بات مان لو، ان کے کہنے پر چلو اور دیکھو کہ وہ اپنے کسی دنیوی مفاد کی خاطر تمھیں دعوت نہیں دے رہے، نہ ہی تم سے اپنی اس خیر خواہی کی کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں، خود سیدھے راستے پر ہیں اور تمھیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ ایسے رسولوں کی جو تم سے کچھ اجر نہیں مانگتے اور وہ خود راہ راست [23] پر ہیں۔
[23] اس مرد حق گو نے اصحاب قریہ کو کیا کیا باتیں سمجھائیں؟
اس صالح مرد نے قوم کے پاس آکر انہیں دو باتیں سمجھائیں ایک یہ کہ یہ رسول جو تعلیم پیش کرتے ہیں پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور ان کی اخلاقی حالت بھی تم سے بہت بلند ہے۔ دوسرے جو کچھ وہ تمہیں تعلیم دیتے ہیں اس پر نہ تو تم سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں اور نہ اس کام سے ان کا اپنا کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ اور جو بات وہ کہتے ہیں تمہاری ہی بھلائی کے لئے کہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے بے لوث مخلصوں کی بات تمہیں ضرور مان لینا چاہئے۔ بلکہ ان کی قدر کرنا چاہئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مبلغ حق شہید کر دیا ٭٭
مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہو گئے کہ انہیں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کر لیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کر دیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بیٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہو سکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ حضرت عمر بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جوتی گانٹھنے والے تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ انہوں نے آ کر اپنی قوم کو سمجھانا شروع کیا کہ تم ان رسولوں کی تابعداری کرو۔ ان کا کہا مانو۔
ان کی راہ چلو، دیکھو تو یہ اپنا کوئی فائدہ نہیں کر رہے یہ تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے۔ اپنی خیر خواہی کی کوئی اجرت تم سے طلب نہیں کر رہے۔ درد دل سے تمہیں اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور سیدھے اور سچے راستے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ خود بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ تمہیں ضرور ان کی دعوت پر لبیک کہنا چاہیئے اور ان کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی بلکہ انہیں شہید کر دیا۔ «رضی اللہ عنہا وارضاہ» ۔