ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 18

قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
انھوں نے کہا بے شک ہم نے تمھیں منحوس پایا ہے، یقینا اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمھیں سنگسار کر دیں گے اور تمھیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔ En
وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
En
انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18){ قَالُوْۤا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ …:} جب بستی والے دلیل کے ساتھ جواب نہ دے سکے تو دھمکی پر اتر آئے، جیسا کہ فرعون اور دوسرے متکبروں کا شیوہ رہا ہے۔ کہنے لگے، اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے اور تمھیں ہمارے ہاتھوں درد ناک سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ { تَطَيَّرْنَا } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۴۷) اور سورۂ اعراف (۱۳۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعْوذ باللّٰہِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا ہو تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعْوذ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بےبہرہ لوگ، اہل ایمان وتقوی کو ہی، منحوس، سمجھتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ وہ کہنے لگے کہ: ”ہم تو تمہیں منحوس [18] سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہمارے [19] ہاتھوں تمہیں دردناک سزا ملے گی“
[18] انبیاء کی دعوت پر کافروں کو کیا مصیبت پڑتی ہے؟
منکرین حق کو جھنجھوڑنے کے لئے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ چھوٹے موٹے عذاب یا سختیاں بطور تنبیہ نازل ہوا کرتی ہیں۔ اور اگر ایسا کوئی عذاب نہ بھی آئے تو بھی ایک بات کا وقوع پذیر ہونا یقینی ہے۔ نبی جب دعوت دیتا ہے تو کچھ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح دو فریق بن جاتے ہیں جن کی آپس میں ٹھن جاتی ہے۔ ایک آدمی اگر ایماندار ہے تو اس کے رشتہ دار کافر ہوتے ہیں۔ منکرین حق کے لئے یہ ایک الگ مصیبت بن جاتی ہے۔ بہرحال عذاب کی صورت ہو یا ایسی تفریق کی، منکرین حق اس کا الزام رسولوں پر دھرتے اور کہتے تھے کہ جب سے تم آئے ہو ہمیں یہ مصیبت پڑ گئی ہے اور یہ تمہاری ہی نحوست کا نتیجہ ہے۔ ورنہ پہلے سب مل جل کر اچھے خاصے آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔
[19] کافر قوم کی دھمکی:۔
ان لوگوں نے اپنے رسولوں کو محض ایسی دھمکی ہی دی تھی جب کہ کفار مکہ نے کئی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی جان سے مار ڈالنے کی کوششیں اور سازشیں کی تھیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انبیأ و رسل سے کافروں کا رویہ ٭٭
ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے۔