تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا:} اور اچھے یا برے جو عمل بھی انھوں نے کیے ہیں، ہم سب لکھ رہے ہیں۔ مراد اس سے وہ اعمال ہیں جو انھوں نے اپنی زندگی میں خود کیے۔
➌ { وَ اٰثَارَهُمْ: ” اٰثَارَ “ ”أَثَرٌ“} کی جمع ہے۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ان کی زندگی میں یا ان کی موت کے بعد دوسرے لوگوں کے وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جن کا سبب یہ بنے اور ان کے کسی قول یا فعل یا ان کی کسی حالت کی وجہ سے دوسرے لوگوں نے وہ اعمال اختیار کیے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کی دعوت، نصیحت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر یا جہاد فی سبیل اللہ کی وجہ سے یا ان کے پڑھانے یا تصنیف کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد جو نیک عمل کیے، یا انھوں نے کوئی مسجد، مدرسہ یا لوگوں کے فائدے کی کوئی چیز بنا دی، جس سے ان کی موت کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہے، سب ان کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ یہی حال ان برے اعمال کا ہے جو ان کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد لوگوں نے کیے، وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوں گے۔ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ…: ۱۰۱۷] ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کی کوئی بات) جاری کرے اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا اجر ہے اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد کریں، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں سے کچھ کم ہو اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کے خلاف یا کوئی بدعت) جاری کرے اس پر اپنے گناہ کا بوجھ ہو گا اور ان کے گناہ کا بھی جو اس کے بعد کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے بوجھ میں سے کچھ کم ہو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ] [مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان …: ۱۶۳۱] ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، صدقہ جاریہ سے، یا اس علم سے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اس آیت اور ان احادیث سے دعوت و تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کی عظمت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
{” اٰثَارَهُمْ “} کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نیکی یا بدی کی طرف چل کر جانے والے قدموں کے نشانوں کو بھی اللہ تعالیٰ لکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کے ارد گرد زمین کے کچھ قطعے خالی ہو گئے تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں، یا رسول اللہ! ہم نے یہ ارادہ کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا بَنِيْ سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ! تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ! تُكْتَبْ آثَارُكُمْ] [مسلم، المساجد، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد: ۶۶۵] ”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے، (اے بنو سلمہ!) اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے۔“ ابنِ کثیر نے فرمایا، اس قول اور پہلے قول میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ اس قول کی رو سے {” اٰثَارَهُمْ “} سے کسی کی پیروی کی وجہ سے کیے جانے والے اعمال مراد لینا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جب قدموں کے نشان تک لکھے جاتے ہیں تو اچھے یا برے جن اعمال میں کوئی شخص نمونہ بنا، وہ تو بدرجہ اولیٰ لکھے جاتے ہیں۔
➍ { وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْۤ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ: ” اِمَامٍ مُّبِيْنٍ “} سے مراد لوحِ محفوظ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہونے والا ہر کام پہلے ہی درج فرما دیا ہے، یا ہر شخص کا اعمال نامہ ہے جس میں اس کا چھوٹا یا بڑا ہر عمل پورے ضبط کے ساتھ درج ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ» [بني إسرائیل: ۷۱] ”جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔“ یہاں امام سے مراد ان کے اعمال کی کتاب ہے۔ اس واضح کتاب کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہے۔ دیکھیے سورۂ زمر (۶۹) اور کہف (۴۹) یہاں {” اِمَامٍ مُّبِيْنٍ “} سے مراد اعمال نامہ لینا زیادہ مناسب ہے، اگرچہ اس میں وجود میں آنے کے بعد وہی کچھ درج ہو گا جو اس سے پہلے لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّا نحنُ نُحْيي الموتى}؛ أي: نبعثُهم بعد موتِهِم لِنُجازِيَهم على الأعمال، {ونَكْتُبُ ما قَدَّموا}: من الخير والشرِّ، وهو أعمالُهم التي عملوها وباشَروها في حال حياتِهِم، {وآثارَهُم}: وهي آثار الخير وآثارُ الشرِّ التي كانوا هم السببَ في إيجادها في حال حياتِهِم وبعدَ وفاتِهِم، وتلك الأعمال التي نشأت من أقوالِهِم وأفعالِهِم وأحوالِهِم؛ فكلُّ خيرٍ عمل به أحدٌ من الناس بسبب علم العبد وتعليمِهِ أو نُصحه أو أمرِهِ بالمعروف أو نهيِهِ عن المنكر أو علم أوْدَعَه عند المتعلِّمين أو في كتبٍ يُنْتَفَع بها في حياتِهِ وبعدَ موتِهِ أو عمل خيراً من صلاةٍ أو زكاةٍ أو صدقةٍ أو إحسانٍ فاقتدى به غيرُه، أو عمل مسجداً أو محلاًّ من المحالِّ التي يرتَفِقُ بها الناسُ وما أشبهَ ذلك؛ فإنَّها من آثارِهِ التي تُكْتَبُ له، وكذلك عمل الشرِّ، ولهذا: «من سنَّ سنَّةً حسنةً؛ فله أجْرُها وأجْرُ من عَمِلَ بها إلى يوم القيامةِ، ومن سنَّ سنَّة سيئة، فعليه وزرها ووزر من عمل بها إلى يوم القيامة».
وهذا الموضع يبيِّنُ لك علوَّ مرتبة الدَّعوة إلى الله والهداية إلى سبيله بكلِّ وسيلةٍ وطريق موصل إلى ذلك، ونزول درجة الداعي إلى الشرِّ الإمام فيه، وأنَّه أسفل الخليقة وأشدُّهم جرماً وأعظمُهم إثماً، {وكلَّ شيءٍ}: من الأعمال والنيَّاتِ وغيرها {أحْصَيْناه في إمام مُبينٍ}؛ أي: كتاب هو أمُّ الكتب، وإليه مرجِعُ الكُتُب التي تكون بأيدي الملائكة، وهو اللوحُ المحفوظُ.