ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 12

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕؑ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۲﴾
بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی اور جو بھی چیز ہے ہم نے اسے ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔ En
بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔
En
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { اِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتٰى:} یعنی ہم ان سب کو مرنے کے بعد زندہ کریں گے، ان کو بھی جو آپ کے ڈرانے کے باوجود کفر پر اڑے رہے اور انھیں بھی جنھوں نے آپ کی نصیحت سن کر اس کی پیروی کی، تاکہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دیں۔ بعض مفسرین نے مُردوں کو زندہ کرنے سے مشرکین کو شرک سے نکال کر ایمان میں لانا مراد لیا ہے، مگر سیاق کے لحاظ سے پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے۔
➋ { وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا:} اور اچھے یا برے جو عمل بھی انھوں نے کیے ہیں، ہم سب لکھ رہے ہیں۔ مراد اس سے وہ اعمال ہیں جو انھوں نے اپنی زندگی میں خود کیے۔
➌ { وَ اٰثَارَهُمْ: اٰثَارَ أَثَرٌ} کی جمع ہے۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ان کی زندگی میں یا ان کی موت کے بعد دوسرے لوگوں کے وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جن کا سبب یہ بنے اور ان کے کسی قول یا فعل یا ان کی کسی حالت کی وجہ سے دوسرے لوگوں نے وہ اعمال اختیار کیے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کی دعوت، نصیحت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر یا جہاد فی سبیل اللہ کی وجہ سے یا ان کے پڑھانے یا تصنیف کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد جو نیک عمل کیے، یا انھوں نے کوئی مسجد، مدرسہ یا لوگوں کے فائدے کی کوئی چیز بنا دی، جس سے ان کی موت کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہے، سب ان کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ یہی حال ان برے اعمال کا ہے جو ان کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد لوگوں نے کیے، وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوں گے۔ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ…: ۱۰۱۷] جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کی کوئی بات) جاری کرے اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا اجر ہے اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد کریں، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں سے کچھ کم ہو اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کے خلاف یا کوئی بدعت) جاری کرے اس پر اپنے گناہ کا بوجھ ہو گا اور ان کے گناہ کا بھی جو اس کے بعد کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے بوجھ میں سے کچھ کم ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ] [مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان …: ۱۶۳۱] جب انسان فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، صدقہ جاریہ سے، یا اس علم سے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرے۔ اس آیت اور ان احادیث سے دعوت و تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کی عظمت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
{ اٰثَارَهُمْ } کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نیکی یا بدی کی طرف چل کر جانے والے قدموں کے نشانوں کو بھی اللہ تعالیٰ لکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کے ارد گرد زمین کے کچھ قطعے خالی ہو گئے تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! ہم نے یہ ارادہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا بَنِيْ سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ! تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ! تُكْتَبْ آثَارُكُمْ] [مسلم، المساجد، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد: ۶۶۵] اے بنو سلمہ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے، (اے بنو سلمہ!) اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے۔ ابنِ کثیر نے فرمایا، اس قول اور پہلے قول میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ اس قول کی رو سے { اٰثَارَهُمْ } سے کسی کی پیروی کی وجہ سے کیے جانے والے اعمال مراد لینا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جب قدموں کے نشان تک لکھے جاتے ہیں تو اچھے یا برے جن اعمال میں کوئی شخص نمونہ بنا، وہ تو بدرجہ اولیٰ لکھے جاتے ہیں۔
➍ { وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْۤ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ: اِمَامٍ مُّبِيْنٍ } سے مراد لوحِ محفوظ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہونے والا ہر کام پہلے ہی درج فرما دیا ہے، یا ہر شخص کا اعمال نامہ ہے جس میں اس کا چھوٹا یا بڑا ہر عمل پورے ضبط کے ساتھ درج ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ» ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۷۱] جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ یہاں امام سے مراد ان کے اعمال کی کتاب ہے۔ اس واضح کتاب کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہے۔ دیکھیے سورۂ زمر (۶۹) اور کہف (۴۹) یہاں { اِمَامٍ مُّبِيْنٍ } سے مراد اعمال نامہ لینا زیادہ مناسب ہے، اگرچہ اس میں وجود میں آنے کے بعد وہی کچھ درج ہو گا جو اس سے پہلے لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی قیامت والے دن یہاں احیائے موتی کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کردیتا ہے جو کفر و ضلالت کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔ 12۔ 2 اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لیے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ بلا شبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں [12]۔ ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے اور وہ آثار بھی جو پیچھے [13] چھوڑ گئے۔ اور ہم نے ہر چیز کا ایک واضح کتاب [14] (لوح محفوظ) میں ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔
[12] اس کا ایک مفہوم تو واضح ہے اور یہی مفہوم دنیا میں بھی ہر آن مشاہدہ میں آرہا ہے۔ اور یہی مفہوم عقیدہ آخرت کی بنیاد ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ قرآن نے بعض مقامات پر موتیٰ سے مراد مردہ دل کافر بھی لئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ عرب قوم جس کی اخلاقی اور روحانی قوتیں بالکل مرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ پھر ان میں زندگی کی روح پھونک دے کہ وہ دنیا میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دے اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے اپنے عظیم آثار چھوڑ جائے۔
اثر کا لغوی مفہوم:۔
اثر کا معنی در اصل قدموں کے نشان ہیں۔ جو کسی انسان کے چلنے کے بعد زمین پر پڑ جاتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا اطلاق زمین پر پڑے ہوئے قدموں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی سلمہ کے لوگوں نے (جن کے مکان مسجد نبوی سے دور تھے) ارادہ کیا کہ وہ اپنے مکان چھوڑ دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر رہائش پذیر ہوں۔ (تاکہ آسانی سے نماز با جماعت میں شامل ہو سکیں۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی سرحدوں کا اجڑنا برا معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ﴿اٰثَارَهُم سے مراد زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات مراد ہیں۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب احتساب الآثار]
[13] زندگی کے بعد اعمال نامہ میں درج ہونے والے اعمال:۔
ہر انسان کے اعمال نامہ میں تین طرح کے اندراجات ہوتے ہیں۔ ایک وہ اعمال و اقوال جو اس نے اپنی زندگی کے دوران سرانجام دیئے تھے۔ دوسرے اعمال کے اثرات جو عمل کرنے سے انسان کے اپنے جسم، اس کے اعضاء و جوارح، زمین یا فضا میں مرتسم ہوتے رہتے ہیں۔ اور تیسرے وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات اس کی زندگی کے بعد بھی باقی رہ گئے۔ مثلاً کسی شخص نے کوئی مفید کتاب تصنیف کی یا لوگوں کو علم دین سکھایا اور یہ سلسلہ آگے چلتا رہا یا کوئی چیز اللہ کی راہ میں وقف کر گیا۔ یہ سب کچھ اس کے عمل کے اثرات ہیں اور ان کا ثواب اس کے اعمال نامہ میں اس زندگی کے بعد بھی درج ہوتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی شرکیہ عقیدہ یا بدعت یا کوئی بد رسم نکالی تو جو شخص ان باتوں کو اپنائیں گے حصہ رسدی ان کا گناہ اس کے ایجاد کرنے والے کے اعمال نامہ میں بھی درج ہوتا رہتا ہے۔
[14] لوح محفوظ کے نام اور صفات:۔
کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جس کے مزید نام ام الکتاب اور کتاب مکنون بھی قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ اس امام مبین کا مکمل ادراک تو انسان کے احاطہ سے باہر ہے تاہم روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی تختی یا کتاب ہے جس میں کائنات کی تقدیر کے متعلق تمام امور پہلے سے لکھ دیئے گئے ہیں۔ اور ان میں رد و بدل نہیں ہوتا اور یہ تمام احکام و فرامین اور کلمات الٰہی کا مصدر ہے اور مکنون اس لحاظ سے ہے کہ اس کے مندرجات کی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو خبر نہیں۔ گویا لوگوں کے جو اعمال نامے تیار ہو رہے ہیں جو اعمال و آثار کے وقوع کے بعد لکھے جاتے ہیں۔ عین اللہ کے اس علم کے مطابق ہوتے ہیں جس کے مطابق اس نے ہر چیز پہلے سے ہی امام مبین میں درج کر رکھی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔