(آیت 11) {اِنَّمَاتُنْذِرُمَنِاتَّبَعَالذِّكْرَ …:} یعنی آپ کے ڈرانے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہو گا جو نصیحت سنیں اور اسے مان کر اس پر عمل کریں۔ {”وَخَشِيَالرَّحْمٰنَبِالْغَيْبِ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۱۸) {”بِمَغْفِرَةٍ“} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی انذار سے صرف اس کو فائدہ پہنچتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ آپ تو صرف اسے ڈرا سکتے ہیں جو اس ذکر (قرآن) کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمان [11] سے ڈرے، ایسے لوگوں کو آپ مغفرت اور با عزت اجر کی خوشخبری دے دیجئے۔
[11] بن دیکھے رحمان سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو آخرت کے دن پر اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی باز پرس پر ٹھیک طرح سے ایمان رکھتے ہیں اور اپنے اس ایمان بالآخرت کے عقیدے کو سستی نجات کے عقیدے سے خراب نہیں کر لیتے اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں اللہ سے ڈر کر انتہائی محتاط زندگی گزارتے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی بخشش کے مستحق ہوتے ہیں۔ گناہ تو ان کے معاف کر دیئے جاتے ہیں اور نیک اعمال کا اجر بہت بڑھ چڑھ کر ملتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔