ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 9

وَ اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ ﴿۹﴾
اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائو ں کو بھیجا، پھر وہ بادل کو ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے ایک مردہ شہر کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں، اسی طرح اٹھایا جانا ہے۔ En
اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو اُبھارتی ہیں پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو جی اُٹھنا ہوگا
En
اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کردیتے ہیں۔ اسی طرح دوباره جی اٹھنا (بھی) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9){ وَ اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا …:} قرآن کریم میں موت کے بعد زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ حج میں فرمایا: «وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ (5) ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (6) وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ» ‏‏‏‏ [الحج: ۵ تا ۷] اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اور (اس لیے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور (اس لیے) کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ سب لوگ دیکھتے ہیں کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے، پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں جانور یعنی مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہو گئے؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی ہو گی، انسان کا حال عجیب ہے کہ جو چیز اس کے مشاہدے میں آتی ہے اسے من و عن تسلیم کر لیتا ہے، مگر بالکل اس جیسی دوسری چیز کا انکار صرف اس لیے کر دیتا ہے کہ وہ اس کے مشاہدے میں نہیں آئی، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک زمین کو ہم شاداب کردیتے ہیں اسی طریقے سے قیامت والے دن تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کردیں گے، حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا سارا جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے صرف ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے اسی سے اس کی دوبارہ تخلیق و ترکیب ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اللہ ہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھا لاتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی مردہ بستی کی طرف چلا کر لے جاتے ہیں اور اس زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ کر دیتے ہیں۔ انسانوں [13] کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہو گا۔
[13] نباتات کی پیدائش سے معاد پر دلیل:۔
یہ ایک عام انسانی مشاہدہ سے معاد پر دلیل ہے۔ انسانی مشاہدہ یہ ہے کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتی ہزاروں جانور، مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہو گئے؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی بھی ہو گی۔ اور روایات میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا کہ تمام انسان زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے اگ آئیں یا اٹھ کھڑے ہوں تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہو گی جس سے سب انسان زندہ ہو کر زمین سے اس طرح نکل آئیں گے جس طرح برسات سے کھیتی اور حشرات الارض نکل آتے ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ جو چیز انسان کے مشاہدہ میں آ چکی ہے۔ اسے من و عن تسلیم تو کر لیتا ہے لیکن اس میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا اور جو چیز اس کے مثل ہے مگر ابھی اس کے مشاہدہ میں نہیں آئی اس سے انکار کر دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موت کے بعد زندگی ٭٭
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ الحج وغیرہ میں ہے۔۱؎ [22-الحج:5]‏‏‏‏بندوں کے لیے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی تروتازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن بادل اٹھتے ہیں، پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی، تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھا یا کوسوں تک ہریاول ہی ہریاول ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے ایک سے ایک الگ ہو گا۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میں سے اگنے لگیں گے۔ جیسے زمین سے دانے الگ آتے ہیں۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے ابن آدم تمام کا تمام گل سڑ جاتا ہے لیکن ریڑھ کی ہڈی نہیں سڑتی اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اس سے ترکیب دیا جائے گا۔۱؎ [صحیح بخاری:4814]‏‏‏‏ یہاں بھی نشان بتا کر فرمایا کہ اسی طرح موت کے بعد کی زیست ہے۔ سورۃ الحج کی تفسیر میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ ابورزین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس بات کی کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا اے ابورزین کیا تم اپنی بستی کے آس پاس کی زمین کے پاس سے اس حالت میں نہیں گذرے کہ وہ خشک بنجر پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ تم گذرتے ہو تو دیکھتے ہو کہ وہ سبزہ زار بنی ہوئی ہے اور تازگی کے ساتھ لہرا رہی ہے۔ ابو رزین نے جواب دیا ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔ آپ نے فرمایا بس اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر دے گا۔۱؎ [مسند احمد::11/4ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کمال اقتدار اور وسعت سخاوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابً٘ا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّؔیِّتٍ جو ہواؤ ں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اس مردہ زمین پر بارش برساتا ہے ﴿فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ، پھر ہم اس زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔ پس مردہ زمین اور بندے زندگی حاصل کرتے ہیں، حیوانات کو رزق ملتا ہے، اس سرسبز زمین پر وہ چرتے پھرتے ہیں۔
﴿كَذٰلِكَ اسی طرح جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندگی بخشی وہ مردوں کے بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد انھیں ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر ان پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے گا، جیسے وہ مردہ زمین پر اپنی رحمت کی بارش برساتا ہے۔ پس وہ بارش ان کے بوسیدہ اجسام پر برسے گی، تمام اجسام اور ارواح اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اور وہ عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن كمال اقتدارِهِ وسَعَة جودِهِ وأنَّه {أرسلَ الرياحَ فتُثير سحاباً فسُقْناه إلى بلدٍ مَيِّتٍ}: فأنزله الله عليها، {فأحْيَيْنا به الأرض بعدَ موتها}: فحييتِ البلادُ والعبادُ، وارتزقت الحيواناتُ، ورَتَعَتْ في تلك الخيرات، {كذلك}: الذي أحيا الأرض بعد موتها ينشر الأمواتَ من قبورهم بعدما مزَّقَهم البلاء، فيسوقُ إليهم مطراً كما ساقه إلى الأرض الميتة، فينزِلُه عليهم، فتحيا الأجساد والأرواح من القبور، فيأتون للقيام بين يدي الله، ليحكم بينهم ويَفْصِلَ بحكمِهِ العدل.