(آیت 7) ➊ { اَلَّذِيْنَكَفَرُوْالَهُمْعَذَابٌشَدِيْدٌ:} اس آیت میں اپنے فرماں بردار اور نافرمان بندوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔ ➋ { لَهُمْمَّغْفِرَةٌوَّاَجْرٌكَبِيْرٌ: ”مَغْفِرَةٌ“} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی بخشش“ کیا گیا ہے۔ {”اَجْرٌكَبِيْرٌ“} (بہت بڑا اجر) یعنی ان کے لیے ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اور ان کی سوچ اور فکر سے بھی بڑا اجر ہے۔ یہاں {”اَجْرٌكَبِيْرٌ“} سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ، عمل صالح بیان کر کے اس کی اہمیت کو واضح کردیا ہے تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ جو لوگ کافر ہوئے انہیں سخت عذاب ہو گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا [11] اجر ہے۔
[11] یعنی ایماندار نیک اعمال کرنے والوں کے گناہ تو سارے کے سارے معاف کر دیئے جائیں گے۔ رہے نیک اعمال تو ان کا بدلہ بھی اعمال کے مطابق نہیں بلکہ ان سے بہت زیادہ دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ٭٭
اوپر بیان گزرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لیے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس لیے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہو جائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر و ثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہیئے۔ مقدرات اللہ جاری ہو چکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم کا حکمت سے خالی نہیں۔ لوگوں کے تمام افعال اس پر واضح ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس پر وہ نور پڑ گیا وہ دنیا میں آ کر سیدھی راہ چلا اور جسے اس دن وہ نور نہ ملا وہ دنیا میں آ کر بھی ہدایت سے بہرہ ورہ نہ ہو سکا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل کر خشک ہو گیا۔ ۱؎[مسند احمد::176/2حسن] [ابن ابی حاتم] اور روایت میں ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا اللہ کے لیے ہر تعریف ہے جو گمراہی سے ہدایت پر لاتا ہے اور جس پر چاہتا ہے گمراہی خلط ملط کر دیتا ہے ۱؎[طبرانی کبیر:220/5،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔